بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں منہ سے خون کا نکلنا


سوال

کتنی مقدار میں دانتوں کے مسوڑھوں سے خون نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں منہ سے خون نکلنے کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں، ہر ایک صورت کا حکم مندرجہ ذیل ہے :

۱۔اگر مسوڑھوں سے خون نکلا اور روزہ دار  نے منہ سے وہ خون تھوک دیا اور یہ خون حلق سے اترکر  پیٹ تک نہیں پہنچا، تواس صورت میں  روزہ نہیں ٹوٹے گا ،خواہ خون کم ہو یا زیادہ۔

۲۔ اگر  منہ سے نکلنے والا خون پیٹ میں پہنچ جائے اور اس کا مزہ بھی محسوس ہو تو بہرحال روزہ ٹوٹ جائے گا،روزہ کی قضا لازم ہوگی۔

۳۔ اگرمنہ سے نکلنے والا خون  پیٹ میں پہنچ جائے لیکن  خون کا مزہ محسوس نہ ہو تو خون مغلوب ہونے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا ،ورنہ یعنی اگر خون غالب یا برابر ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا،اور ایک روزے کی قضاکرنی ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(أو خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه) يعني ولم يصل إلى جوفه أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا إلا إذا وجد طعمه بزازية واستحسنه المصنف وهو ما عليه الأكثر وسيجيء".

(ج:۲،ص:۳۹۶،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144309100057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں