بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں منہ سے خون کا نکلنا

?سوال

کتنی مقدار میں دانتوں کے مسوڑھوں سے خون نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

✓جواب

روزے کی حالت میں منہ سے خون نکلنے کی چند صورتیں ہو سکتی ہیں، ہر ایک صورت کا حکم مندرجہ ذیل ہے :

۱۔اگر مسوڑھوں سے خون نکلا اور روزہ دار  نے منہ سے وہ خون تھوک دیا اور یہ خون حلق سے اترکر  پیٹ تک نہیں پہنچا، تواس صورت میں  روزہ نہیں ٹوٹے گا ،خواہ خون کم ہو یا زیادہ۔

۲۔ اگر  منہ سے نکلنے والا خون پیٹ میں پہنچ جائے اور اس کا مزہ بھی محسوس ہو تو بہرحال روزہ ٹوٹ جائے گا،روزہ کی قضا لازم ہوگی۔

۳۔ اگرمنہ سے نکلنے والا خون  پیٹ میں پہنچ جائے لیکن  خون کا مزہ محسوس نہ ہو تو خون مغلوب ہونے کی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا ،ورنہ یعنی اگر خون غالب یا برابر ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا،اور ایک روزے کی قضاکرنی ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(أو خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه) يعني ولم يصل إلى جوفه أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا إلا إذا وجد طعمه بزازية واستحسنه المصنف وهو ما عليه الأكثر وسيجيء".

(ج:۲،ص:۳۹۶،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144309100057
تاریخ04-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں