بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روزوں کی قضا کیسے کریں؟


سوال

میں چودہ سال کی عمر میں بالغ ہوئی تھی اور اٹھارہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی، شادی ہونے سے پہلے میں فرض روزے تو رکھتی تھی، لیکن جو روزے چھوڑنے پڑتے ہیں، ان کی قضا کرنے کے بارے میں علم نہیں تھا، اس لیے میں نے قضا روزے نہیں رکھے تھے، شادی کے بعد جو روزے چھوٹے ان کی قضا میں نے کر لی، اس کے علاوہ شادی کے فورًا بعد جو رمضان آیا تھا اس کے روزے میں نے نہیں رکھے تھے، میری شادی کو اب چالیس سال ہو گئے ہیں، مجھے یقین ہے کہ میں نے اب سے پانچ سال قبل سے، پہلے کے چھوٹے ہوئے روزے رکھنا شروع کر دیے تھے اور وہ اس طرح کہ تقریباً ہر پیر اور جمعرات کو روزے رکھتی ہوں، لیکن اب بھی مجھے سکون نہیں آتا کہ شاید پورے نہیں ہوئے، اب پوچھنا یہ ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے جس سے میرے قضا روزے پورے ہو جائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں بلوغت کے بعد ہر سال جتنے رمضانوں میں ماہواری  کے سبب روزے نہیں رکھے تھے، ان کو خوب اچھی طرح یاد کرکے (جتنا غالب گمان ہو) حساب کرکے نوٹ کرلیں،  اور جتنے روزے رکھ لیے ہیں، اتنے روزے کل میں سے منہا ( مائنس) کرکے بقیہ دونوں کے روزوں کی قضا کرلیں، اور اللہ سے امید رکھیں کے اللہ قبول فرمائے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں