بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزے نہ رکھنا


سوال

ہمارے گاؤں کے ایک تہائی لوگوں نے رمضان کے روزے رکھے اور دو تہائی نہیں رکھے، چنانچہ مسجد کے امام صاحب نے  جمعہ کے روز روزے کے موضوع پر گفتگو کرتے  ہوئے فرمایا:قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:فمن شهد منكم الشهرفليصمه۔ بقرہ 185 =»»کہ رمضان کا مہینہ پانے والے اور تندرست و صحیح سلامت رہنے والوں کے لیے  روزے رکھنا فرض اور ضروری ہیں، لہذا اگر کسی شخص کو رمضان کا مہینہ ملے اور بغیر کسی وجہ شرعی وطبعی کے رمضان کے روزے نہ رکھےاور دن میں کھانا کھاۓ، تو اس کے لیے وہ کھانا حرام ہوگا ،میرا سوال یہ  ہے کہ کیا امام صاحب نے  (جو شخص تندرست اور صحیح سلامت ہو، بغیرکسی عذر شرعی وطبعی کے رمضان میں روزے نہ رکھے اور کھانا کھائے تو وہ حرام کھانا کھائے گا اور اس کا کھانا حرام ہوگا ؟) کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان کے روزے چھوڑنا سخت گناہ ہے،بخاری شریف کی روایت کے مطابق رمضان کے روزے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ،جو روزے کو چھوڑے گا گویا اس نے اسلام کے رکن میں سے ایک رکن کو چھوڑدیا،یہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ ہے،بعض سلف صالحین نے ایسے شخص کو  کافر تک قرار دیا ہے،لہذا اہل علاقہ کو چاہیے کہ روزہ رکھنے کا اہتمام کریں،امام صاحب کی نصائح کو مانیں،البتہ امام صاحب کا یہ کہنا کہ "جو شخص تندرست اور صحیح سلامت ہو، بغیرکسی عذر شرعی وطبعی کے رمضان میں روزے نہ رکھے اور کھانا کھائے تو اس کے لئے وہ کھانا حرام ہوگا "اس کا مطلب یہ  ہے کہ روزےمیں کھانے کا فعل حرام ہے،کھانا حرام نہیں ہے،یعنی روزے کی حالت میں کھانا ایک حرام کام ہے،فی نفسہ کھانا (یعنی وہ چیز بذات خود حلال ہو ، روزے میں کھانے سے وہ) حرام نہیں ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

"عَن ابْنِ عُمَر رَضِي اللّهُ عَنْهُما قَال : قَال رَسُول اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلمَ : " بُنِيَ الْإِسْلَام عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَن مُحَمّدا رسول الله، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكاة، والْحجّ، وصوم رمضان".

(كتاب الإيمان، باب دعاؤكم ايمانكم، ج:1، ص:11، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ  چیزوں پر رکھی گئی ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اور یہ  کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا،زکوۃ ادا کرنا،حج کرنا،رمضان کے روزے رکھنا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"والدليل على فرضية صوم شهر رمضان: الكتاب، والسنة، والإجماع، والمعقول، أما الكتاب: فقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون} [البقرة: 183] .وقوله {كتب عليكم} [البقرة: 183] أي: فرض، وقوله تعالى {فمن شهد منكم الشهر فليصمه} [البقرة: 185] وأما السنة: فقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت من استطاع إليه سبيلا» وقوله - صلى الله عليه وسلم - عام حجة الوداع: «أيها الناس اعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وحجوا بيت ربكم وأدوا زكاة أموالكم طيبة بها أنفسكم تدخلوا جنة ربكم» وأما الإجماع: فإن الأمة أجمعت على فرضية شهر رمضان، لا يجحدها إلا كافر".

(كتاب الصوم، ج:2، ص75، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100920

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں