بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کے بغیر سنت اعتکاف


سوال

اگر کسی شخص نے روزے پورے نہیں رکھے تو کیا وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے؟

جواب

رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف مسنون ہے، اور مسنون اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، روزہ کے بغیر مسنون اعتکاف صحیح نہیں ہوتا ؛لہذا  کوئی شخص    اعتکاف کے دنوں میں روزہ کسی عذر کی وجہ سے نہیں رکھ سکتا  تو اس کے لئے سنت اعتکاف میں بیٹھنا درست نہیں ، البتہ نفلی اعتکاف کی نیت سے اعتکاف کرسکتا ہے ، اس کا اجر وثواب ملے گا۔لیکن اگر شروع کے دنوں کے کچھ روزے چھوٹ  گئے ہیں اور اب اعتکاف کے  دنوں میں روزے رکھے گا تو اس صورت  میں   سنت اعتکاف کرسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ومقتضى ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون؛ لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر، ينبغي أن لايصح عنه بل يكون نفلاً فلاتحصل به إقامة سنة الكفاية".

(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصوم ،باب الاعتکاف،442/2،ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں