بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں اسقاطِ حمل سے روزہ کا حکم


سوال

رمضان میں اسقاط حمل کروانے سے جو خون جاری ہوتا ہے کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاۓ گا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر اسقاط حمل بچہ کے اعضا میں سے کسی عضو کے بننےیعنی چار ماہ  کے بعد کروایا ہے تو اس اسقاطِ حمل کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگا یعنی اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاۓ گا اور اگر اسقاطِ حمل بچہ کے کسی بھی عضو کے تیار ہونے سے پہلے کروایا ہے اور درمیان میں کم از کم پندرہ دن پاکی گزرے ہوں تو  اُس اسقاطِ حمل کے بعد آنے والا خون عورت کی عادتِ حیض کے مطابق حیض شمار ہوگا اور باقی استحاضہ۔ یعنی اگر اسقاطِ حمل کے بعد خون  آگیا تھا تو عادت کے مطابق یہ ایام حیض کے شمار ہوں گے، اس کا روزہ ٹوٹ جاۓ گا اور یہ عورت   نماز روزہ تلاوت کلام مجید ترک کر دے گی، البتہ اگر عادت سے تجاوز کرگیا اور دس دن تک بند ہوگیا تب بھی یہ سارے ایام حیض کے ہی شمار ہوں گے، اور اگر آنے والا خون دس دن سے تجاوز کرگیا ہو تو،   حیض کے سلسلہ میں جو عادت تھی وہ ایام حیض کے شمار ہوں گے، عادت کے علاوہ باقی تمام ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے، جس میں اسے نماز ادا کرنا اور روزہ رکھنا لازم ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ چار ماہ یا اس سے زیادہ مدت کا حمل ساقط کرنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار:

"(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولايستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوماً (ولد) حكماً (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثاً وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة، ولو لم يدر حاله ولا عدد أيام حملها ودام الدم تدع الصلاة أيام حيضها بيقين ثم تغتسل ثم تصلي كمعذور.  (قوله: فليس بشيء) قال الرملي في حاشية المنح بعد كلام: وحاصله: أنه إن لم يظهر من خلقه شيء فلا حكم له من هذه الأحكام (قوله: والمرئي) أي الدم المرئي مع السقط الذي لم يظهر من خلقه شيء ... (قوله: وإلا استحاضة) أي إن لم يدم ثلاثاً وتقدمه طهر تام، أو دام ثلاثاً ولم يتقدمه طهر تام، أو لم يدم ثلاثاً ولاتقدمه طهر تام ح. (قوله: ولو لم يدر حاله إلخ) أي لايدري أمستبين هو أم لا؟ بأن أسقطت في المخرج واستمر بها الدم، فإذا كان مثلاً حيضها عشرة وطهرها عشرين ونفاسها أربعين، فإن أسقطت من أول أيام حيضها تترك الصلاة عشرةً بيقين؛ لأنها إما حائض أو نفساء ثم تغتسل وتصلي عشرين بالشك لاحتمال كونها نفساء أو طاهرةً ثم تترك الصلاة عشرةً بيقين؛ لأنها إما نفساء أو حائض، ثم تغتسل وتصلي عشرين بيقين لاستيفاء الأربعين، ثم بعد ذلك دأبها حيضها عشرة وطهرها عشرون، وإن أسقطت بعد أيام حيضها فإنها تصلي من ذلك الوقت قدر عادتها في الطهر بالشك، ثم تترك قدر عادتها في الحيض بيقين. وحاصل هذا كله أنه لا حكم للشك، ويجب الاحتياط. اهـ من البحر وغيره، وتمام تفاريع المسألة في التتارخانية، ونبه في البدائع على أن في كثير من نسخ الخلاصة غلطاً في التصوير من النساخ".

( الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الطهارة، باب الحيض، (1/ 302) ط: دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101350

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں