بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ملاعبت کی وجہ سے انزال ہوگیا


سوال

1 : روزہ کی حالت میں شوہر سویا ہوا ہو اور بیگم اپنے شوہر کے اعضاء مخصوص سے کھیلے،  شوہر کی آنکھ نہ کھلے اور اس دوران احتلام ہوجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

2 : اگر سوتے ہوئے شوہر کو علم ہوگیا کہ بیگم اعضائے مخصوص سے کھیل رہی،  لیکن شوہر جان کر آنکھ نہ کھولے اور اس حال میں احتلام ہوجائے،  تب روزے کا کیا حکم ہوگا؟

3 : اگر بیگم سو رہی ہو اور شوہر بیگم کے ساتھ کھیلتا ہو،  اس حال میں احتلام ہوجائے جب کہ دخول نہ کیا ہو،  تب روزے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

1۔  صورتِ  مسئولہ میں اگر شوہر واقعۃً بیدار نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں اس کا روزہ فاسد نہ ہوگا۔

2۔ بیدار ہونے کی صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا، صرف قضا  لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔

3۔  روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ جس شخص کو اپنے اوپر اعتماد نہ ہو، اس کے لیے روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا، معانقہ کرنا سب مکروہ ہے، اور اعضاءِ مستورہ سے بلاحائل لطف اندوز ہونا درست نہیں ہے؛ لہٰذا سوال نمبر دو کے مطابق شوہر کے بیدار ہونے کی صورت میں اسے بیوی کو منع کرنا چاہیے، اور سوال نمبر تین کے مطابق مرد کو بیوی کے مستورہ اعضاء سے لطف اندوز نہیں ہونا چاہیے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(أَوْ لَمَسَ) وَلَوْ بِحَائِلٍ لَايَمْنَعُ الْحَرَارَةَ أَوْ اسْتَنْمَا بِكَفِّهِ أَوْ بِمُبَاشَرَةٍ فَاحِشَةٍ وَلَوْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ (فَأَنْزَلَ) قَيْدٌ لِلْكُلِّ حَتَّى لَوْ لَمْ يُنْزِلْ لَمْ يُفْطِرْ كَمَا مَرَّ".

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَلَوْ بِحَائِلٍ لَا يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ) نَقِيضُ مَا بَعْدَ لَوْ وَهُوَ عَدَمُ الْحَائِلِ الْمَذْكُورِ أَوْلَى بِالْحُكْمِ وَهُوَ وُجُوبُ الْقَضَاءِ، لَكِنْ لَاتَظْهَرُ الْأَوْلَوِيَّةُ بِالنَّظَرِ إلَى عَدَمِ الْكَفَّارَةِ مَعَ أَنَّ الْكَلَامَ فِيمَا يُوجِبُ الْقَضَاءَ دُونَ الْكَفَّارَةِ، وَقَيَّدَ الْحَائِلَ بِكَوْنِهِ لَايَمْنَعُ الْحَرَارَةَ لِمَا فِي الْبَحْرِ: لَوْ مَسَّهَا وَرَاءَ الثِّيَابِ فَأَمْنَى فَإِنْ وَجَدَ حَرَارَةَ جِلْدِهَا فَسَدَ وَإِلَّا فَلَا (قَوْلُهُ: بِكَفِّهِ) أَوْ بِكَفِّ امْرَأَتِهِ، سِرَاجٌ (قَوْلُهُ: أَوْ بِمُبَاشَرَةٍ فَاحِشَةٍ) هِيَ مَا تَكُونُ بِتَمَاسِّ الْفَرْجَيْنِ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ غَيْرُ قَيْدٍ هُنَا؛ لِأَنَّ الْإِنْزَالَ مَعَ اللَّمْسِ مُطْلَقًا بِدُونِ حَائِلٍ يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ مُوجِبٌ لِلْإِفْسَادِ كَمَا عَلِمْته، وَإِنَّمَا يَظْهَرُ تَقْيِيدُهَا بِالْفَاحِشَةِ لِأَجْلِ كَرَاهَتِهَا، كَمَا يَأْتِي تَفْصِيلُهُ، تَأَمَّلْ". ( كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ، ٢ / ٤٠٤، ط: دار الفكر)

تنوير الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وَ) كُرِهَ (قُبْلَةٌ) وَمَسٌّ وَمُعَانَقَةٌ وَمُبَاشَرَةٌ فَاحِشَةٌ (إنْ لَمْ يَأْمَنْ) الْمُفْسِدَ وَإِنْ أَمِنَ لَا بَأْسَ".

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ وَكُرِهَ قُبْلَةٌ إلَخْ) جَزَمَ فِي السِّرَاجِ بِأَنَّ الْقُبْلَةُ الْفَاحِشَةَ بِأَنْ يَمْضُغَ شَفَتَيْهَا تُكْرَهُ عَلَى الْإِطْلَاقِ أَيْ سَوَاءٌ أَمِنَ أَوْ لَا، قَالَ فِي النَّهْرِ: وَالْمُعَانَقَةُ عَلَى التَّفْصِيلِ فِي الْمَشْهُورِ، وَكَذَا الْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ كَرَاهَتُهَا مُطْلَقًا وَهُوَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ، قِيلَ: وَهُوَ الصَّحِيحُ. اهـ. وَاخْتَارَ الْكَرَاهَةَ فِي الْفَتْحِ وَجَزَمَ بِهَا فِي الْوَلْوَالِجيَّةِ بِلَا ذِكْرِ خِلَافٍ وَهِيَ أَنْ يُعَانِقَهَا وَهُمَا مُتَجَرِّدَانِ وَيَمَسَّ فَرْجُهُ فَرْجَهَا، بَلْ قَالَ فِي الذَّخِيرَةِ: إنَّ هَذَا مَكْرُوهٌ بِلَا خِلَافٍ؛ لِأَنَّهُ يُفْضِي إلَى الْجِمَاعِ غَالِبًا. اهـ. وَبِهِ عُلِمَ أَنَّ رِوَايَةَ مُحَمَّدٍ بَيَانٌ لِكَوْنِ مَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ مِنْ كَرَاهَةِ الْمُبَاشَرَةِ لَيْسَ عَلَى إطْلَاقِهِ، بَلْ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى غَيْرِ الْفَاحِشَةِ، وَلِذَا قَالَ فِي الْهِدَايَةِ: وَالْمُبَاشَرَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ: أَنَّهُ كَرِهَ الْمُبَاشَرَةَ الْفَاحِشَةَ اهـ وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ مَا مَرَّ عَنْ النَّهْرِ مِنْ إجْرَاءِ الْخِلَافِ فِي الْفَاحِشَةِ لَيْسَ مِمَّا يَنْبَغِي، ثُمَّ رَأَيْت فِي التَّتَارْخَانِيَّة عَنْ الْمُحِيطِ: التَّصْرِيحَ بِمَا ذَكَرْته مِنْ التَّوْفِيقِ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ وَأَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا وَلِلَّهِ الْحَمْدُ (قَوْلُهُ: إنْ لَمْ يَأْمَنْ الْمُفْسِدَ) أَيْ الْإِنْزَالَ أَوْ الْجِمَاعَ، إمْدَادٌ (قَوْلُهُ: وَإِنْ أَمِنَ لَا بَأْسَ) ظَاهِرُهُ أَنَّ الْأَوْلَى عَدَمُهَا لَكِنْ قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَفِي الصَّحِيحَيْنِ «أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ» وَرَوَى أَبُو دَاوُد بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ وَأَتَاهُ آخَرُ فَنَهَاهُ» فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَاَلَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. اهـ". ( كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ، ٢ / ٤١٧، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201531

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے