بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے میں پانی کا دماغ تک پہنچ جانا


سوال

روزے کی حالت میں وضو میں ناک میں پانی ڈالنے سے بعض دفعہ پانی دماغ تک پہنچ جاتاہےتو کیا روزہ فاسد ہوجاۓگا؟ کیسے کیوں کہ پانی پیٹ تک تو نہیں پہنچتا؟

جواب

روزے کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنے سے عام طور پر پانی دماغ تک نہیں پہنچتا، اگر ناک میں پانی ڈالنے سے پانی دماغ تک پہنچ جا نے کا یقین ہو جائے یا ناک کے راستے پانی حلق سے نیچے اتر جائے تو  روزہ فاسد ہوجاۓگا۔ اس لیے کہ کسی چیز کا دماغ تک پہنچ جانا بھی روزے کے توڑنے کا سبب ہوتا ہے۔

امداد المفتین ( ص:۴۹۴ ) میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’نسوار کو ناک میں رکھ کر، اس طرح نکال دیا جائے کہ دماغ تک نہ پہنچے، تو بے شک وہ مفسدِ صوم نہیں؛ لیکن عرفِ عام کے اعتبار سے ایسا ہو نا بہت بعید؛ بل کہ عادۃً متعذر کہا جائے، تو صحیح ہے؛ اس لیے نسوار سونگھنے کو مفسدِ صوم ہی کہا جائے گا‘‘۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں