بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

روزے کی نیت میں الفاظ


سوال

آپ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

’’رات میں یا صبح صادق سے پہلے زبان سے نیت کی ادائیگی کے لیے سوال میں ذکر کردہ الفاظ  ”نویت أن أصوم غداً لله تعالی من صوم رمضان“  یا ’’نویت أن أصوم غداً لله تعالی من فرض رمضان“ بھی کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم‘‘

یہ جو دعا ہے اس پر کچھ یہ اشکال کرتے ہیں کی "غداً" لفظ یہ آئندہ کل کے لیے بولا جاتا ہے، تو آپ کی نیت صحیح نہیں، انہیں کیسے سمجھایا جائے؟

جواب

نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کے الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں ہے،اور نہ ہی روزے کی  نیت کے کوئی مخصوص الفاظ احادیث میں منقول ہیں، البتہ مذکورہ الفاظ بعض بزرگوں سے لوگوں کی سہولت کے واسطے منقول ہیں، لیکن خاص ان ہی الفاظ کے ساتھ روزے کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی دعا ہے۔  نیز اس جملے  میں "غدًا" کا مطلب یہ ہے کہ رات ختم ہونے کے بعد دن شروع ہوگا جو کہ اگلا دن ہوگا، اس دن کے روزے کی نیت کررہا ہوں، نیز "غدًا" کا  لفظ بھی ضروری نہیں، بلکہ "هذا الیوم" بھی کہا جاسکتا ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 380):

"والشرط فيها: أن يعلم بقلبه أي صوم يصومه. قال الحدادي: والسنة أن يتلفظ بها.

 (قوله: والشرط فيها إلخ) أي في النية المعينة لا مطلقا؛ لأن ما لا يشترط له التعيين يكفيه أن يعلم بقلبه أن يصوم فلا منافاة بين ما هنا وما قدمناه عن الاختيار وأفاد ح: أن العلم لازم النية التي هي نوع من الإرادة إذ لا يمكن إرادة شيء إلا بعد العلم به (قوله: والسنة) أي سنة المشايخ لا النبي صلى الله عليه وسلم لعدم ورود النطق بها عنه ح (قوله: أن يتلفظ بها) فيقول: نويت أصوم غدا أو هذا اليوم إن نوى نهارا لله عز وجل من فرض رمضان، سراج". فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144108201317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں