بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1444ھ 09 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزےکی حالت میں کان میں دواڈالنا


سوال

روزے كی حالت ميں كان ميں دوا ڈالناكيساہے؟

جواب

واضح رہےکہ روزےکی حالت میں کان میں دواڈالنےسےروزہ فاسد ہوجاتاہے،اوربعدمیں ایک روزہ قضاء کرنالازم ہے۔

المدونۃ الکبری ٰمیں ہے:

"قال ابن وهب، وأخبرني الحارث بن نبهان عن يزيد بن أبي خالد عن أيوب عن أنس بن مالك: «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لم يكره الكحل للصائم وكره له السعوط أو شيئا يصبه في أذنيه."

(کتاب الصیام ،ج:1،ص:269،ط:دارلکتب العلمیۃ)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهنا أفطر، ولا كفارة عليه هكذا في الهداية، ولو دخل الدهن بغير صنعه فطره كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الصوم،النوع الاول مایوجب القضاءدون الکفارۃ،ج:1،ص:204،ط:المطبعۃ الکبریٰ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101146

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں