بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنا۔


سوال

کیاآنکھوں میں دواڈالنےسےروزہ متاثرہوتاہے؟

جواب

روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ دوا کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:

"‌ولو ‌أقطر شيئا من الدواء في عينه لا يفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لا يفسد صومه كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين."

( الباب الرابع فیما یفسد وما لایفسد،ج:1،ص:203،ط:المطبعۃ الکبری الامیریہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"اكتحل أو احتجم) وإن وجد طعمه في حلقه۔۔۔(قوله: وإن وجد طعمه في حلقه) أي طعم الكحل أو الدهن كما في السراج وكذا لو بزق فوجد لونه في الأصح بحر قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ."

(باب مایفسد الصوم ،ج:2،ص:395،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں