بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ہمبستری کا کفارہ


سوال

روزے کی حالت میں غلطی سے بیوی کے ساتھ ہمبستری کی، فورا ہی احساس ہوا، وہ عمل وہیں روک دیا، اس کا کفارہ بتادیں، اور ساٹھ روزے نہ رکھ پائیں تو۔

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر غلطی سے مراد بھول کر جماع کرناہے تو   اگر واقعتًا روزے  کی حالت  میں  بھول کر ہمبستری کی، اور احساس ہونے پر فورًا  ترک کردیا تو شرعًا روزہ فاسد نہیں ہوا،  لہذا قضا  اور کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ اور اگر غلطی سے مراد کچھ اور ہے تو وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کیجیے۔

المبسوط للسرخسي ميں هے:

"(قال): ومن أكل، أو شرب أو ‌جامع ‌ناسيا في صومه لم يفطره ذلك والنفل والفرض فيه سواء."

(كتاب الصوم: 3/ 65، ط: دار المعرفة)

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

" أي ما يوجب الإفساد من الأسباب كالأكل والشرب ونحوهما (وموجبه) أي ما يوجبه الإفساد من الأحكام كالقضاء والكفارة أو القضاء فقط، اعلم أن الأفعال الصادرة من الصائم فيما يتعلق بهذا الباب ثلاثة أقسام: الأول: ما يتوهم أنه مفسد له وليس بمفسد... وذكر الأول بقوله (إن أكل أو شرب أو جامع ناسيا) قيد للثلاثة المذكورة (أو احتلم أو أنزل بنظر أو ادهن أو اكتحل أو احتجم... (لم يفسد صومه) جزاء لقوله إن أكل. . ." إلخ

(كتاب الصوم، 1/ 201، 202، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں