بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ناک میں دوائی لگانا


سوال

روزے کی حالت میں اگر ناک بند ہوجائے اور سانس لینے میں دشواری ہوتو ناک کھلوانے کے لیے ناک میں دوائی کا استعمال کیا جاسکتاہے یا نہیں؟

جواب

روزہ کی حالت میں سانس کی بحالی کے لیے ناک میں  دوائی کا اسپرے کرنے یا دوائی لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، قضا لازم ہوتی ہے ، کفارہ نہیں ۔

البتہ  روزہ کی حالت ناک کے اوپر یا اس کے اطراف میں وکس بام لگانا یا وکس بام اس طرح سونگھنا کہ اس کے ذرات ناک کے اندر نہ جائیں، جائز ہے،  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 395):
"ولايتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله، إمداد"
.  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں