بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں دانتوں سے خون بہنا


سوال

دانت سے خون بہنے سےکیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

روزہ کی حالت میں اگر دانت سے خون نکلے اور منہ کے اندر ہی رہے  اور اس کو منہ سے باہر پھینک دیا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اور خون حلق سے نیچے اتر جائے تو  پھر  دیکھا جائے گا اگر خون تھوک پر غالب تھا یا برابر تھا تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور ایک دن کی قضا  کرنا لازم ہوگی، لیکن اگر لعاب (تھوک) غالب تھا تو اس صورت میں روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اور خون کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تھوک کا رنگ سرخ ہو یا سرخی مائل ہو، اگر تھوک زردی مائل ہو تو خون کے غلبے کا حکم نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 203):
"الدم إذا خرج من الأسنان ودخل حلقه إن كانت الغلبة للبزاق لا يضره، وإن كانت الغلبة للدم يفسد صومه، وإن كانا سواء أفسد أيضًا استحسانًا". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200912

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے