بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں دانتوں میں پھنسی ہوئی چیز نگل لینا


سوال

روزے کی حالت میں دانتوں میں پھنسے ہوئے ذرات اگر حلق میں اتر جائیں خواہ روزہ یاد  ہونے کے باوجود اپنے اختیار سے اتاریں یا غلطی سے اتاریں تو اس کا کیا حکم ہے؟ دوم اگر روزہ یاد نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

روزے  کی حالت میں روزہ یاد ہونے کی صورت میں اگر دانتوں میں پھنسی ہوئی   چیز   اگرچنے کے دانے کے برابر  یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ حلق میں اتر گئی یا خود اس کو نگل لیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اگر چنے کے دانے سے کم ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، البتہ خود اس کو حلق میں اتارا تو یہ مکروہ ہے۔

اور اگر دانتوں میں پھنسی ہوئی چیز منہ سے باہر نکال کر پھر اس کو دوبارہ حلق میں اتار لیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا چاہے چنے کے دانے کے برابر ہو یا اس سے کم ہو، قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

اگر روزہ یاد نہ ہو  اور بھول کر ایسا کرلیا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 202):

وإن أكل ما بين أسنانه لم يفسد إن كان قليلا وإن كان كثيرا يفسد، والحمصة وما فوقها كثير، وما دونها قليل، وإن أخرجه، وأخذه بيده ثم أكل ينبغي أن يفسد كذا في الكافي، وفي الكفارة أقاويل قال الفقيه - رحمه الله تعالى -: والأصح أنه لاتجب الكفارة كذا في الخلاصة.

واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200337

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں