بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

 روزے کی حالت میں مشت زنی  ہو جائے


سوال

 روزے کی حالت میں مشت زنی  ہو جاۓ تو کتنے روزے  کفارہ ہے اگر ایک روزے میں ہوا ہے تو؟

جواب

مشت زنی کرنا گناہ ہے، احادیث میں اس پر لعنت اور وعید آئی ہے، لہٰذا یہ فعلِ قبیح ناجائز ہے، چہ جائے کہ روزے میں اس کا ارتکاب کیا جائے، روزہ میں تو اس کی قباحت وشناعت مزید بڑھ جاتی ہے اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے۔  روزے کی حالت میں مشت زنی کے نتیجہ میں اگر انزال ہوجائے (منی نکل آئے) تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس روزہ کی قضا لازم ہوتی ہے، البتہ کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ ''فتاوی شامی'' میں ہے:

"مَطْلَبٌ فِي حُكْمِ الِاسْتِمْنَاءِ بِالْكَفِّ (قَوْلُهُ: وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ) أَيْ فِي كَوْنِهِ لَا يُفْسِدُ، لَكِنَّ هَذَا إذَا لَمْ يُنْزِلْ، أَمَّا إذَا أَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ،كَمَا سَيُصَرِّحُ بِهِ، وَهُوَ الْمُخْتَارُ". (٢/ ٣٩٩) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109203106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں