بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں جماع کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرلے کپڑے کے اوپر سے اور منی کاخروج بھی ہو جائے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر ٹوٹ جائے گا تو روزہ کا کفارہ ہوگا یا قضا؟  ہم نے اپنے قریب کے دو مفتیانِ  کرام سے اس مسئلہ کی وضاحت طلب کی تو ایک نے کہا کہ قضا  لازم ہوگی اوردوسرے نے کہا کفارہ لازم آۓ گا۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کپڑے کے اوپر سے جماع کیا لیکن مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہوئی تو میاں بیوی دونوں کا روزہ بھی ٹوٹ گیا اور  دونوں پر روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ  (جو مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے ) بھی لازم ہوگا۔  اگر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کی واقعتًا  قدرت نہ ہو (مثلًا بڑھاپے یا مریض ہونے کی وجہ سے) تو  ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر  کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت دینا لازم ہے ،  ایک صدقہ فطر کی مقدار  نصف صاع  (پونے دو کلو ) گندم یا اس کی قیمت  ہے۔

ایک مسکین کو ساٹھ  دن صدقہ فطر  کے برابر غلہ وغیرہ دیتا رہے یا ایک ہی دن ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کی مقدار دےدے ،  دونوں جائز ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا قیمت  دینے کے بجائے اگر ساٹھ مسکینوں کو ایک دن صبح وشام، یا ایک مسکین کو ساٹھ دن صبح وشام کھانا کھلادے، تو بھی کفارہ ادا ہوجائےگا۔

اور اگر کپڑے کے اوپر سے جماع کرنے سے مراد شرم گاہ داخل کیے بغیر انزال ہونا ہے تو اگر صرف مرد کو انزال ہوا تو اس کا روزہ فاسد ہوگیا، اور اس صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اور اگر بیوی کو بھی انزال ہوگیا یعنی اس کی منی شرم گاہ سے خارج ہوگئی تو اس کا روزہ بھی فاسد ہوگیا، اس صورت میں اس پر بھی قضا لازم ہوگی۔ بہرصورت مذکورہ میاں بیوی کو استغفار بھی کرنا چاہیے؛ کیوں کہ رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں جماع کرنا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 205):

"من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة... إذا أكل متعمداً ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة، وهذا إذا كان مما يؤكل للغذاء أو للدواء فأما إذا لم يقصد لهما فلا كفارة وعليه القضاء، كذا في خزانة المفتين ... وإذا أصبح غير ناو للصوم ثم نوى قبل الزوال ثم أكل فلا كفارة عليه، كذا في الكشف الكبير".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200365

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں