بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزے کے کفارے کی رقم مدرسے میں دینا اور اس کی مقدار


سوال

کیا روزے کا کفارہ کسی مدرسے میں دیا جا سکتا ہے،  کیوں کہ آج کل کے دور میں مسکین کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہے،  اس صورت میں راہ نمائی فرمائیں اور ایک روزے کا کفارہ میاں بیوی کا کتنا بنے گا ؟

جواب

جن مدارس میں مستحقِ زکات طلبہ پڑھتے ہیں اور وہاں مستحق طلبہ پر واجب صدقات خرچ کرنے کا اہتمام ہوتاہے، وہاں روزے کے کفارے کی رقم دی جاسکتی ہے، بلکہ صدقات و خیرات کے ذریعے دینی مدارس کی معاونت کرنادوہرے ثواب کا باعث ہوگا، ایک صدقے کا ثواب دوسرا دین کی اشاعت، تاہم روزے کا کفارہ دیتے وقت مدرسے میں صراحت کرکے رقم دی جائے کہ یہ روزے کے  کفارے کی رقم ہے۔

واضح رہے کہ وہ شخص جس میں روزہ فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں، رمضان کے اُس اَدا روزے میں جس کی نیت صبح صادق سے پہلے کرچکا ہو عمداً  روزہ توڑدے، یعنی بدن کے کسی جوف میں قدرتی یا مصنوعی منفذ (Opening) سے کوئی ایسی چیز پہنچائے جو انسان کی غذا یا دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہو یا جماع کرے یا کرائے ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا، اور اس فعل پر توبہ واستغفار بھی کرنا لازم ہوگی۔

روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک روزہ توڑنے کے بدلے مسلسل بلاناغہ ساٹھ روزے رکھے، درمیان میں ایک دن بھی روزہ چھوڑ دیا تو از سر نو ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے، اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو  دو  وقت  کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا واجب ہوگا، جوان صحت مند آدمی کےلیے کفارے میں روزے چھوڑ کر مسکین کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ نیز کفارے کے علاوہ جو روزہ توڑا ہے، اس کی قضا بھی کرنی ہوگی۔

اور میاں بیوی نے رمضان کے دنوں میں کوئی روزہ ہم بستری کرکے توڑ دیا ہو تو دونوں پر  روزے کی قضا بھی لازم ہوگی اور الگ الگ کفارہ  بھی لازم ہوگا۔

اگر مذکورہ شخص یا اس کی بیوی  مسلسل  ساٹھ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے  تو ہر ایک کی طرف سے الگ الگ  ساٹھ مسکینوں کے کھانے کی رقم کسی دینی مدرسہ میں دے دیں تو یہ بھی جائز ہے،تاہم یہ رقم دیتے ہوئے وضاحت کردے کہ یہ کفارے کی رقم ہے؛ تاکہ اسے کفارے کے مصرف میں خرچ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔  اور چوں کہ ایک مسکین  کے کھانے  کی مقدار وہی ہے جو صدقہ فطر کی ہے،لہذا ایک کفارے کی مد میں ساٹھ صدقہ فطر کے برابر رقم دینا ضروری ہوگا۔

اور ایک صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے، لہٰذا کفارہ ادا کرنے والا شخص جس علاقے میں ہو، کفارہ دیتے ہوئے وہاں گندم کی قیمت معلوم کرکے حساب کرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو ل اولا...عمدا...قضى...وكفر...ككفارة المظاهر.

(قوله: ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة."

(باب مايفسد الصوم ومالايفسد، ج:2، ص:409، ط: ايچ ايم سعيد)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144209202308

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں