بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں جماع کا حکم


سوال

ایک شخص نے روزے کے حالت میں جماع کیا اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں  ہم بستری کرنا ناجائز اور حرام ہے، اگر رمضان کے روزے کے دوران ہم بستری کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے، بیوی اگر راضی ہو تو میاں بیوی دونوں پر علیحدہ علیحدہ کفارہ لازم ہوگا،اور اگر بیوی راضی نہیں تھی  تو بیوی پر صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

ایک روزے کے کفارے میں  ساٹھ  روزے مسلسل رکھنے واجب ہوتے ہیں، اور اگر بیماری وغیرہ کسی شرعی عذر کی بنا پر واقعۃً روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو  دو وقت کھانا کھلانا، یا ساٹھ مسکینوں کو صدقۃ الفطر  کے بقدر رقم ادا کرنا لازم ہوگا۔

البتہ  اگر روزے دار کو روزہ یاد نہیں تھا ، بھول کر روزے کی حالت میں وہ ہم بستری کرلے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"من جامع عمدًا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهةً في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان".

(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد،ج:1،ص:205،دارالفکر)

وفيها أيضاّ:

"إذا أكل الصائم أو شرب أو جامع ناسيًا لم يفطر، ولا فرق بين الفرض والنفل، كذا في الهداية". 

(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد وما لایفسد،ج:1،ص:202،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100579

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں