بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں الٹی (قے) ہوجانے کے بعد کھانے اور پینے کا حکم


سوال

روزے کی حالت میں الٹی ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو کیا اس کے بعد کھا پی سکتے ہیں؟

جواب

الٹی (قے)  اگر خود بخود آجائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، چاہے  منہ بھر کر ہو یا نہ ہو، البتہ اگر اپنے اختیار سے قے کی جائے، اور منہ بھر کر ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے خود بخود الٹی ہونے کی صورت میں کچھ بھی کھانا یا پینا جائز نہیں ہے، اگر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

الٹی (قے) سے روزہ نہ ٹوٹنے کا علم اگر نہ ہو، اور  الٹی (قے)  آنے سے روزہ ٹوٹ جانے کے گمان سے اگر کوئی شخص قصداً  کچھ کھا کر روزہ توڑ دے تو ایسی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی،  کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود اگر کوئی قصداً  کھا پی لے تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا۔

بہرصورت قے کے بعد اگر روزہ فاسد کردیا یا قے کی وجہ سے روزہ فاسد ہوگیا اور مرض شدید نہ ہو تو بقیہ دن روزہ داروں کی طرح بھوکا پیاسا رہنا ضروری ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وَكَذَا لَوْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَظَنَّ أَنَّهُ يُفَطِّرُهُ فَأَفْطَرَ، فَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِوُجُودِ شُبْهَةِ الِاشْتِبَاهِ بِالنَّظِيرِ فَإِنَّ الْقَيْءَ وَالِاسْتِقَاءَ مُتَشَابِهَانِ؛ لِأَنَّ مَخْرَجَهُمَا مِنْ الْفَمِ وَكَذَا لَوْ احْتَلَمَ لِلتَّشَابُهِ فِي قَضَاءِ الشَّهْوَةِ وَإِنْ عَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ لَايُفَطِّرُهُ فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ؛ لِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ شُبْهَةُ الِاشْتِبَاهِ وَلَا شُبْهَةُ الِاخْتِلَافِ اهـ".

(كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَايُفْسِدُهُ، ٢ / ٤٠٢، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201867

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں