بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ہم بستری کرنے کا حکم


سوال

روزے  کی حالت  میں جماع کرنے کا کیا مسئلہ ہے?

جواب

روزے  کی حالت میں ہم بستری کرنا  ناجائز اور حرام ہے، اگر رمضان میں روزے کے دوران ہم بستری کی (یعنی مرد  کی شرم گاہ بیوی کی شرم گاہ میں داخل ہوگئی) تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔

یعنی ایک روزے کے بدلے ایک روزہ بطورِ قضا رکھنا ہوگا، اور اس کے ساتھ ایک روزے کے کفارے میں  ساٹھ  روزے مسلسل رکھنے واجب ہوں گے، اور اگر بیماری وغیرہ کسی شرعی عذر کی بنا پر واقعۃً روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اور آئندہ بھی روزے پر قدرت کی توقع نہ ہو تو  ساٹھ مسکینوں کو  دو وقت کھانا کھلانا، یا ساٹھ مسکینوں کو صدقۃ الفطر  کے بقدر رقم ادا کرنا ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 409):

"(وإن جامع) المكلف آدمياً مشتهى (في رمضان أداءً) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا ۔۔۔ قضى) في الصور كلها (وكفر)". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201677

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں