بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں کلی کرنے کا حکم


سوال

 کیا روزے کی حالت میں وضو کے وقت کُلی کرنا چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ اندر پانی جانے کا ڈر رہتا ہے اور کُلی کرنا وضو میں فرض نہیں ہے، میں روزے کی حالت میں کُلی نہیں کرتا، کیا اِس کو چھوڑنے کی اجازت ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں روزے کی حالت میں    بھی کلی کرنا سنت ہے ،وضو کے وقت کلی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے ،البتہ کلی میں غرارہ سنت نہیں ،بلکہ منع ہے کیونکہ غرارہ سے حلق میں پانی داخل ہونے کا خدشہ رہتاہے ۔ 

فتاوی ھندیہ میں ہے :

"إن ترك المضمضة والاستنشاق أثم على الصحيح؛ لأنهما من سنن الهدى وتركها يوجب الإساءة بخلاف السنن الزوائد فإن تركها لا يوجب الإساءة هكذا في السراج الوهاج."

(کتاب الطہارۃ ،الباب الاول ،الفصل الثانی  ،ج:1،ص:7،ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ )

فتاوی شامی میں ہے :

"إذا بقي بعد المضمضة ماء فابتلعه بالبزاق لم يفطر لتعذر الاحتراز."

(کتاب الصوم ،باب ما یفسد الصوم ومالایفسدہ ،ج:2،ص:396،ط :دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509100325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں