بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ کے دوران سر میں شدید درد ہوجا ئے تو روزہ توڑنے کاحکم


سوال

مجھے روزہ کے دوران کبھی کبھار سر میں سخت ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہے اور اگر بروقت دوائی نہ لی جائے تو پھر اُلٹی ہوتی ہے اور طبیعت  بہت زیادہ خراب ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں کیا  میں روزہ توڑ  سکتا ہوں؟ اگر توڑسکتا ہوں تو پھر کیااس  ایک روزہ کے بدلے میں ایک ہی  قضا روزہ رکھنا ہوگا؟ اگر یہی صورتِ حال قضا روزہ یا نفلی روزہ کے دوران پیش آئے تو کیا حکم ہے؟

جواب

 اگر  رمضان کے روزہ کے دوران آپ کے سر میں ایسا سخت ناقابلِ برداشت درد ہو جائے کہ روزہ نہ توڑنے کی وجہ سے بیماری بڑھنے  اور  طبیعت کے مزید بگڑ جانے  کا شدید خطرہ ہو تو ایسی صورت میں آپ کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے اور روزہ توڑنے کی صورت میں صرف   اُسی روزہ کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ معمولی درد یا وہم کی بنا پر روزہ توڑنا جائز نہیں ہے اور توڑنے کی صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوگا،بوقتِ ضرورت ڈاکٹر سے بھی مشورہ / رائے لے لیں۔

 قضا روزہ اورنفلی روزہ توڑنے کی صورت میں (خواہ کسی عذر کی وجہ سے ہو یا بغیر کسی عذر کے ہو) بہر صورت صرف اُسی روزہ کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

اگر آپ کو تکلیف کی وجہ سے فرض روزہ توڑنا پڑتا ہے اور قضا روزہ رکھنے میں بھی ناقابلِ برداشت تکلیف ہوتی ہے تو آپ کسی ماہر ڈاکٹر سے علاج کرائیں اور روزہ کے دوران آرام کریں، کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کی تکلیف بڑھنے کا اندیشہ ہو، نیز سردی کے موسم میں دن چھوٹے ہوتے ہیں، جس میں روزہ رکھنا قدرے آسان ہوتا ہے، اگر گرمی کے موسم میں دن کے طویل ہونے کی وجہ سے قضاروزہ رکھنے میں دشواری ہوتی ہو تو سردی کے موسم میں قضا روزہ رکھیں۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين ولو كان له نوبة الحمى فأكل قبل أن تظهر الحمى لا بأس به كذا في فتح القدير."

(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، 207/1، ط: رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صيام غير رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد صوم رمضان عرف بالتوقيف، وأنه صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام والأوقات في الشرف والحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة.

وأما وجوب القضاء فأما الصيام المفروض: فإن كان الصوم متتابعا كصوم الكفارة والمنذور متتابعا فعليه الاستقبال لفوات الشرائط وهو التتابع، ولو لم يكن متتابعا كصوم قضاء رمضان والنذر المطلق عن الوقت والنذر في وقت بعينه فحكمه أن لا يعتد به عما عليه ويلحق بالعدم، وعليه ما كان قبل ذلك في قضاء رمضان والنذر المطلق وفي المنذور في وقت بعينه، عليه قضاء ما فسد.

وأما صوم التطوع: فعليه قضاؤه عندنا خلافا للشافعي."

(كتاب الصوم، فصل: حكم فساد الصوم، 102/2، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں