بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزہ دار کے سامنے کھانا پینا


سوال

روزہ دار کے سامنے کوئی شخص جان بوجھ کر کچھ کھائے پیے تو کیا اس شخص پر کوئی گناہ هے یا نہیں؟

جواب

روزہ رکھنے والے کے سامنے کھانا پینا جائز ہے، یہ عمل خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔

سنن ابن ماجه (1/ 556):

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِبِلَالٍ «الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ» فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ».

 سنن الترمذي ت بشار (2/ 145):

عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الصائم إذا أكل عنده المفاطير صلت عليه الملائكة.

... أَنَّ النَّبِیَّ ﷺَ دَخَلَ عَلَیْها فَقَدَّمَتْ إِلَیْه طَعَامًا، فَقَالَ كلِي، فَقَالَتْ: إِنِّی صَائِمَة، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰه ﷺ: إِنَّ الصَّائِمَ تُصَلِّي عَلَیْه المَلَائِکَة إِذَا أُكلَ عِنْدَہُ حَتَّی یَفْرُغُوا.

(سنن الترمذي، أَبْوَابُ الصَّوْمِ، بَابُ مَا جَاء َ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ إِذَا أُكلَ عِنْدَہُ)

أَتَانَا رَسُولُ اللَّه  ﷺَ  فَقَرَّبْنَا إِلَیْه  طَعَامًا، فَكانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَہُ صَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه  ﷺ: الصَّائِمُ إِذَا أُكلَ عِنْدَہُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَیْه الْمَلَائِکَة.

(سنن ابن ماجه كتَابُ الصِّیَامِ بَابٌ فِي الصَّائِمِ إِذَا أُكلَ عِنْدَہُ)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144112201302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں