بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ملازمت ٹیسٹ کے لیے روزہ توڑنے کا حکم


سوال

نوکری کے لیے  ٹیسٹ دیتے وقت دوڑنے کے لیے روزہ توڑنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی شخص کا ملازمت کے لیے ٹیسٹ دیتے ہوئے روزہ توڑنا شرعاً جائز نہیں ہے ، بلکہ ایسے شخص کوچاہیے کہ اگر روزہ رکھ کر ٹیسٹ دے سکتا ہو تو ٹیسٹ دے دے ورنہ رمضان المبارک کا روزہ برقرار رکھے اور ٹیسٹ کے لیے رمضان کے بعد کے ایام کا انتخاب یا درخواست کرے، ہاں اگر روزہ رکھ کر ٹیسٹ دینے کے بعد اتنی کمزوری ہو گئی کہ جان کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے تو روزہ توڑنے کی اجازت ہو گی اور بعد میں ایک روزہ قضاء کرنا پڑے گا۔

اگر ایسا شخص محض دوڑنے کے لیے رمضان کا روزہ توڑ دیتا ہے تو مذکورہ شخص گناہ گار ہوگا اوراس پر اس  روزے کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ 

''فتاوی شامی'' میں ہے:

'' لا يجوز أن يعمل عملاً يصل به إلى الضعف، فيخبز نصف النهار ويستريح الباقي، فإن قال: لا يكفيني، كذب بأقصر أيام الشتاء، فإن أجهد الحر نفسه بالعمل حتى مرض فأفطر ففي كفارته قولان، قنية''۔

''(قوله: لا يجوز إلخ) عزاه في البحر إلى القنية. وقال في التتارخانية: وفي الفتاوى سئل علي بن أحمد عن المحترف إذا كان يعلم أنه لو اشتغل بحرفته يلحقه مرض يبيح الفطر، وهو محتاج للنفقة هل يباح له الأكل قبل أن يمرض؟ فمنع من ذلك أشد المنع، وهكذا حكاه عن أستاذه الوبري، وفيها: سألت أبا حامد عن خباز يضعف في آخر النهار هل له أن يعمل هذا العمل؟ قال: لا ولكن يخبز نصف النهار ويستريح في الباقي، فإن قال: لا يكفيه، كذب بأيام الشتاء؛ فإنها أقصر فما يفعله اليوم اهـ ملخصاً.
(قوله: فإن أجهد الحر إلخ) قال في الوهبانية: فإن أجهد الإنسان بالشغل نفسه فأفطر في التكفير قولين سطروا، قال الشرنبلالي: صورته: صائم أتعب نفسه في عمل حتى أجهده العطش فأفطر لزمته الكفارة، وقيل: لا، وبه  أفتى البقالي''۔

(  کتاب الصوم، ج:2،ص:420،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101994

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں