بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزہ توڑ کر پھر جماع کرنے کا حکم


سوال

زوجین بوس وکنار کےدوران ایک کا لعاب دوسرے کےمنہ سے حلق تک پہنچ گیا تو روزہ فاسدہوگیا۔

سوال یہ ہےکہ لعاب حلق تک پہنچ کر روزہ فاسدہونے کےبعد ابھی مکمل ہم بستری کی تو کیا کفارہ لازم ہے یانہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں میاں بیوی میں سے جس نے بھی دوسرے کا لعاب نگل لیا تو  روزہ فاسد ہونے کے ساتھ  اس سے بھی کفارہ لازم ہوگا، اگر دونوں نے ایک دوسرے کا تھوک نگل لیا تو دونوں کا روزہ فاسد ہوگیا اور  ایک روزہ قضا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں پر کفارہ بھی لازم ہوگیا۔

یہ بھی واضح رہے کہ روزہ ٹوٹ جانے کے بعد بھی غروبِ آفتاب تک جماع کرنا جائز نہیں، بلکہ روزہ داروں کی مشابہت اور احترامِ رمضان میں پورا دن روزہ داروں کی طرح رہنا لازم ہے۔

"ولو ابتلع بزاق غیره فسد صومه بغیرکفارة إلاإذا کان بزاق صدیقه فحینئذ تلزمه الکفارة، کذا في المحیط". (الهندیة، کتاب الصوم، البا ب الرابع فیما یفسد الصوم ومالایفسد، ۱/۲۰۳)
"ومنه أي من موجب الکفارة ابتلع بزاق زوجته أو بزاق صدیقه؛ لأنه یتلذذ به". (حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح، دارالکتاب /۶۶۷)
"وإن ابتلع بزاق غیره فسد صومه بغیرکفارة، إلا إذاکان بزاق صدیقه فحینئذ تلزمه الکفارة؛ لأنّ الناس قلّما یعافون ببزاق أصدقائهم". (الفتاویٰ التاتارخانیة، ۳/۳۸۳، رقم: ۴۶۴۰) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109201977

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں