بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1444ھ 02 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

روزہ شروع کرنے کے بعد حیض شروع ہوگیا


سوال

رمضان میں سحری کے بعد صبح آٹھ یا دس یا گیارہ بجے عورت کو حیض آجائے تو ایسی حالت میں روزہ افطار کرسکتی ہے  یا نہیں؟ اس دن کچھ کھائے پیے نہیں لیکن قضا بھی کرے؟

جواب

روزہ شروع کرنے کے بعد اگر عورت کو حیض آگیا تو اس کا روزہ فاسد ہوگیا، اس کے بعد کھانے پینے کی اجازت ہوگی اور اس دن کی قضا بھی لازم ہوگی۔

 الفتاوى الهندية  (1/ 207) :

"(ومنها الحيض والنفاس)  وإذا حاضت المرأة ونفست أفطرت كذا في الهداية."

(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ط: رشيدية)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (2/ 311) :

"وأشار المصنف بالمسألتين إلى أصل وهو أن كل من صار في آخر النهار بصفة لو كان في أول النهار عليها للزمه الصوم فعليه الإمساك كالحائض والنفساء تطهر بعد طلوع الفجر أو معه والمجنون يفيق والمريض يبرأ والمسافر يقدم بعد الزوال أو الأكل والذي أفطر عمدا أو خطأ أو مكرها أو أكل يوم الشك ثم استبان أنه من رمضان أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت أو تسحر بعد الفجر ولم يعلم ومن لم يكن على تلك الصفة لم يجب الإمساك كما في ‌حالة ‌الحيض والنفاس ثم قيل الحائض تأكل سرا لا جهرا وقيل تأكل سرا وجهرا."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ط: دارالكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144309100424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں