بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ سابقہ تمام امتوں پر فرض تھا یا بعض پر؟


سوال

روزہ سابقہ تمام امتوں پر فرض تھا یا بعض پر؟

جواب

روزہ کا حکم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک کی تمام شریعتوں اور امتوں  میں فرض  تھا،لیکن تمام امتوں میں روزہ کا حکم حالات وصفات ، روزوں کی تعداد، روزوں کے اوقات اور ان کی تحدید ،اور یہ کہ کن ایام میں رکھے جائیں ،ان سب چیزوں کے اعتبار سے مختلف تھا۔

تفسیر طبری میں ہے :

"قال أبو جعفر: ثم اختلف أهل التأويل في الذين عنى الله بقوله:"كما كتب على الذين من قبلكم"، وفي المعنى الذي وقع فيه التشبيه بين فرض صومنا وصوم الذين من قبلنا.

فقال بعضهم: الذين أخبرنا الله عن الصوم الذي فرضه علينا، أنه كمثل الذي كان عليهم، هم النصارى. وقالوا: التشبيه الذي شبه من أجله أحدهما بصاحبه، هو اتفاقهما في الوقت والمقدار الذي هو لازم لنا اليوم فرضه."

(ج:3،ص:140،ط:دار التربية والتراث - مكة المكرمة)

احکام القرآن للجصاص میں ہے :

"وقوله تعالى: {كما كتب على الذين من قبلكم} يعتوره معان ثلاثة كل واحد منها مروي عن السلف; قال الحسن والشعبي وقتادة: إنه كتب على الذين من قبلنا وهم النصارى شهر رمضان أو مقداره من عدد الأيام، وإنما حولوه وزادوا فيه. وقال ابن عباس والربيع بن أنس والسدي: كان الصوم من العتمة إلى العتمة ولا يحل بعد النوم مأكل ولا مشرب ولا منكح، ثم نسخ. وقال آخرون: معناه أنه كتب علينا صيام أيام كما كتب عليهم صيام أيام، ولا دلالة فيه على مساواته في المقدار بل جائز فيه الزيادة والنقصان. وروي عن مجاهد وقتادة: الذين من قبلكم أهل الكتاب."

(باب فرض الصيام،ج:1،ص:212،ط:دار الكتب العلمية بيروت)

احکام القرآن للعربی میں ہے :

"المسألة الثالثة قوله تعالى: {‌كما ‌كتب ‌على ‌الذين ‌من ‌قبلكم}: فيه ثلاثة أقوال: قيل: هم أهل الكتاب وقيل: هم النصارى. وقيل: هم جميع الناس.

وهذا القول الأخير ساقط؛ لأنه قد كان الصوم على من قبلنا بإمساك اللسان عن الكلام، ولم يكن في شرعنا؛ فصار ظاهر القول راجعا إلى النصارى لأمرين: أحدهما: أنهم الأدنون إلينا.

الثاني: أن الصوم في صدر الإسلام كان إذا نام الرجل لم يفطر، وهو الأشبه بصومهم."

(الآية الخامسة والثلاثون قوله تعالى يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام،ج:1،ص:106،ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

معارف القرآن میں ہے :

’’قران کریم کے الفاظ’’ الذین من قبلکم ‘‘عام ہیں، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک کی تمام شریعتوں اور امتوں کو شامل ہیں۔ اس سے معلوم ہے کہ جس طرح نماز کی عبادت سے کوئی شریعت اور کوئی امت خالی نہیں رہی اسی طرح روزہ بھی اسی طرح روزہ بھی ہر شریعت میں فرض رہا ہے ۔

جن حضرات نے فرمایا ہے کہ ’’من قبلکم ‘‘سے اس جگہ نصاری مراد ہے وہ بطور ایک مثال کے ہے اس سے دوسری امتوں کی نفی نہیں ہوتی۔

آیت میں صرف اتنا بتلایا گیا ہے کہ روزے جس طرح مسلمانوں پر فرض کیے گئے،پچھلی امتوں میں بھی فرض کیے گئے ،اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پچھلی امتوں کے روزے تمام حالات و صفات  میں مسلمانوں ہی کے روزوں کے برابر ہوں، مثلا روزوں کی تعداد، روزوں کے اوقات اور ان کی تحدید ،اور یہ کہ کن ایام میں رکھے جائیں، ان امور میں اختلاف ہو سکتا ہے چنانچہ واقعہ بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ تعداد میں بھی کمی بیشی ہوتی رہی اور روزے کے ایام اور اوقات میں فرق ہوتا رہا ہے ۔ـ‘‘

(سورۃ البقرۃ،ج:1،ص:443،ط:مکتبہ معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101131

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں