بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

روزہ نہ رکھنے کی نیت کی اور پھر سارا دن کچھ کھایا پیا نہیں تو کیا روزہ شمار ہوگا


سوال

فجر کی اذان کے بعد اگر روزہ نہ رکھنے کی نیت کر لی جائے لیکن پھر بھی سارا دن کچھ نہ کھائے کہیں گنہگار نہ ہو تو کیا اس کا روزہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

رمضان کا روزہ صحیح ہونے کے لیے نیت ضروری ہے، نیت  دل کے ارادہ کا نام ہے، دل میں اتنی نیت کرلینا کہ آج میرا روزہ ہے، یا  رات میں یہ ارادہ کرلے کہ  کل میرا روزہ ہےکافی ہے۔صورت مسؤلہ میں روزہ نہ رکھنے کی نیت کی  گئی ہے ،لہذا  صرف سارا دن کھانے پینے سے رکنے سے شرعا  اس دن کاروزہ نہیں ہوگا ۔

فتاوى ہنديہ میں ہے :

"والنية معرفته بقلبه أن يصوم كذا في الخلاصة، ومحيط السرخسي. والسنة أن يتلفظ بها كذا في النهر الفائق. ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان. والتسحر في رمضان نية ذكره نجم الدين النسفي، وكذا إذا تسحر لصوم آخر، وإن تسحر على أنه لا يصبح صائما لا يكون نية، ولو نوى من الليل ثم رجع عن نيته قبل طلوع الفجر صح رجوعه في الصيامات كلها كذا في السراج الوهاج، ولو قال نويت أن أصوم غدا إن شاء الله - تعالى - صحت نيته هو الصحيح كذا في الظهيرية.

وإن نوى أن يفطر غدا إن دعي إلى دعوة، وإن لم يدع يصم لا يصير صائما بهذه النية فإن أصبح في رمضان لا ينوي صوما، ولا فطرا، وهو يعلم أنه عن رمضان ذكر شمس الأئمة الحلواني عن الفقيه أبي جعفر عن أصحابنا - رحمهم الله تعالى - في صيرورته صائما روايتين والأظهر أنه لا يصير صائما كذا في المحيط."

(كتاب الصوم,الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه,1/ 195ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں