بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

روزہ نہ کھنے والے کاریگروں کو دن میں کھانا یا پانی دینا


سوال

اگر دکان میں کاریگر کام کر رہے ہیں اور روزہ نہ رکھتے ہوں تو کیا دکان دار ان کو  پانی یا کھانا دن میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کچھ  نے روزہ رکھا ہے اکثریت نےنہیں رکھا ہو تو  کیا ان کو افطاری کروانا دکان دار کے ذمہ ہے؟  اگر روزہ نہ رکھا ہو،  پھر بھی افطاری کروانا،  کیا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ماہِ رمضان میں عاقل بالغ مسلمان مرد و زن پر شرعی عذر کے بغیر  روزہ ترک کرنا حرام ہے، اور اگر کسی شخص نے شرعی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھا ہو تو اس کے لیے سارے دن کچھ کھائے پیے بغیر رہنا لازم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے روزہ چھوڑنے والے کے لیے دن بھر کھانا پینا جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے اپنے کاریگروں کو دن میں کھانا پینا فراہم کرنا معاونت علی الاثم ( گناہ کرنے میں تعاون فراہم کرنا) کے قبیل میں سے ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہوگا۔ کاریگروں میں سے جو روزہ دار ہوں انہیں افطار کرانا باعثِ اجر و ثواب ہوگا، اگرچہ دوکان دار کے ذمہ شرعاً لازم نہیں، اور افطار کے وقت روزہ دار کاریگروں کے ساتھ غیر روزہ دار بھی شامل ہوجائیں تو سائل گناہ گار نہیں ہوگا۔ عذر کے بغیر روزہ چھوڑنے والوں کے لیے دعا بھی کیجیے اور حکمت کے ساتھ نصیحت بھی کیجیے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [المائدة: 2]

ترجمہ: اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔ (از بیان القرآن)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے