بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں مشت زنی کرنا


سوال

مشت زنی کرنے سے پہلے روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ روزہ کی حالت میں مشت زنی کرنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ایسے شخص کا روزہ فاسد ہوجائے گا، جس کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

" وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه.

(قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار كما يأتي لكن المتبادر من كلامه الإنزال بقرينة ما بعده فيكون على خلاف المختار".

( كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده الفسادمطلب في حكم الاستمناء بالكف، ٢ / ٣٩٩، ط: دار الفكر)

ملحوظ رہے کہ مشت زنی حرام ہے، جس پر صدق دل سے درج ذیل شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے توبہ کرنا مذکورہ شخص پر لازم ہوگا:

1۔ مذکورہ گناہ کو فوری طور پر ترک کرنا۔

2۔ باری تعالی کے سامنے  اس عمل پر ندامت کا اظہار کرنا۔

3۔ آئندہ مذکورہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔

رياض الصالحين للنووي میں ہے:

" قال العلماء: التوبة واجبة من كل ذنب, فإن كانت المعصية بين العبد وبين الله تعالى لا تتعلق بحق آدمي, فلها ثلاثة شروط:

أحدها: أن يقلع عن المعصية.

والثاني: أن يندم على فعلها.

والثالث: أن يعزم أن لا يعود إليها أبدا. فإن فقد أحد الثلاثة لم تصح توبته.

وإن كانت المعصية تتعلق بآدمي فشروطها أربعة: هذه الثلاثة, وأن يبرأ من حق صاحبها, فإن كانت مالا أو نحوه رده إليه, وإن كانت حد قذف ونحوه مكنه منه أو طلب عفوه, وإن كانت غيبة استحله منها. ويجب أن يتوب من جميع الذنوب, فإن تاب من بعضها صحت توبته عند أهل الحق من ذلك الذنب, وبقي عليه الباقي".

( باب التوبة، ٣٣ - ٣٤، ط: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں