بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں غلط خیال کی وجہ سے منی کا نکلنا اور بیوی کی شرمگاہ کو ہاتھ لگانا


سوال

کیا روزے کی حالت میں اگر شوہر اپنی بیوی کے اعضاء مخصوص کو ہاتھ لگا دے تو اس سے روزے پر کوئی  اثر پڑے گا؟

اگر روزہ کی حالت میں غلط خیال یا کسی سے بات کرتے ہوئے  مرد کی شرمگاہ سے پانی نکل جائے تو اس  کا روزے پر کیا اثر ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر اگر اپنی بیوی کی شرم گاہ کو ہاتھ لگالے جس   سے انزال ہوجائے  تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا اور اگر انزال نہیں ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا،  لیکن روزے میں  بیوی کی شرم گاہ کو شہوت سے ہاتھ لگانا مکروہ ہے، ایسے کاموں سے احتیاط کی جائے۔

اور یہ بات بھی واضح رہے کہ گندے خیالات کا قصداً لانا سخت گناہ کا موجب ہے جس سے روزہ کی کامل برکات نصیب نہیں ہوتیں، اور روزہ کی حالت میں جب کہ بعض جائز چیزیں بھی ناجائز قرار پاتی ہیں تو گندے خیالات کے لانےکی برائی اور قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے، اس لیے اس غلطی پر توبہ لازم ہے، اور اگر دوران روزہ برے خیالات یا فحش گوئی کی وجہ سے اپنے عمل کے بغیر خود سے منی خارج ہوگئی تو اس سے  روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور اگر برے خیالات یا فحش گوئی کرتے  ہوئے اپنے عمل سے انزال ہوگیا (یعنی منی خارج ہوگئی) تو روزہ فاسد ہوگیا  قضا لازم ہوگی،نیز اس صورت میں استغفار بھی لازم ہوگا، کیوں کہ یہ گناہ کا کام ہے۔

اور اگر شہوانی خیال سے صرف مذی خارج ہوئی ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، نہ ہی غسل لازم ہوگا، البتہ وضو ٹوٹ جائے گا، کپڑے اور جسم کی جس جگہ پر مذی لگے اسے پاک کرکے وضو کرکے نماز ادا کرنا ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو احتلم أو أنزل بنظر) ولو إلى فرجها مرارا (أو بفكر) وإن طال مجمع۔۔۔(لم يفطر) جواب الشرط."

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:2،ص:396،ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا نظر إلى امرأة بشهوة في وجهها أو فرجها كرر النظر أولا لا يفطر إذا أنزل كذا في فتح القدير، وكذا لا يفطر بالفكر إذا أمنى هكذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصوم ،الباب الرابع،ج:1،ص:204،ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: أو احتلم أو أنزل بنظر) أي لا يفطر لحديث السنن «لا يفطر من قاء، ولا من احتلم، ولا من احتجم» ولأنه لم يوجد الجماع صورة لعدم الإيلاج حقيقة، ولا معنى لعدم الإنزال عن شهوة المباشرة."

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:2،ص:293،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''وإذا قبل امرأته، وأنزل فسد صومه من غير كفارة، كذا في المحيط. ۔۔۔۔ والمس والمباشرة والمصافحة والمعانقة كالقبلة، كذا في البحر الرائق''.

(جلد۱، ص:۲۰۴، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں