بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1442ھ- 23 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزہ افطار کرنے کی دعا کب پڑھیں؟


سوال

روزہ افطار کرنے کی دعا کب پڑھیں؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افطار کے وقت کی درج ذیل دعائیں احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں:

(1) "اَللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ". [مشکاة، ص:175،کتاب الصوم. ط:قدیمی کراچی]

ترجمہ:اے اللہ!میں نے تیرے ہی واسطے روزہ رکھا اورتیرے ہی رزق سے افطارکیا۔

(2) "ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". [سنن أبي داؤد. 2/278،بیروت]

ترجمہ:پیاس چلی گئی اوررگیں ترہوگئیں اوراللہ نے چاہاتواجروثواب قائم ہوگیا۔

ان احادیث کے ذیل میں بعض شارحین نے لکھاہے کہ افطار کے بعد یہ دعائیں پڑھی جائیں۔[ملاحظہ ہو عون العبود،مرقاۃ المفاتیح]

البتہ مولاناعاشق الٰہی بلندشہری رحمہ اللہ نے ’’تحفۃ المسلمین ‘‘میں لکھاہے کہ ان میں سے پہلی دعا افطاری کے وقت یعنی افطارسے قبل اوردوسری دعاافطاری کے بعد پڑھنی چاہیے۔ (جیساکہ الفاظِ  احادیث بھی اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ افطاری کے بعدہی پڑھی جائے۔)

نیزمشہورسعودی عالم شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریرفرماتے ہیں:

’’دعا غروبِ شمس کے وقت افطاری سے قبل ہونی چاہیے؛  کیوں کہ اس وقت اس میں عاجزی وانکساری اور تذلل جمع ہوتی ہے اور پھر وہ روزے سے بھی ہے اور یہ سب کے سب دعا کے قبول ہونے کے اسباب ہیں اور افطاری کے بعد تو انسان کا نفس راحت اور فرحت وخوشی میں ہوتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑ جائے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع کے لیے ایک دعا ثابت ہے اگر تو یہ صحیح ہو تو پھر یہ افطاری کے بعد ہونی چاہیےاور وہ یہ ہے:

"ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".اس لیے زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتاہے کہ ان دعاؤں میں سے پہلی دعاافطاری سے قبل پڑھی جائے، جب کہ لوگ افطاری سے قبل دیگردعاؤں میں بھی مصروف ہوتے ہیں۔ اوردوسری دعا افطاری کے بعدپڑھی جائے جیساکہ اس کے الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں:

افطار کی دعا کب پڑھی جائے؟

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں