بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ فاسد ہونے کے بعد کھانے پینے کا حکم


سوال

 روزہ فاسد ہونے کے بعد کھانا پینا کا گناہ ہے یا نہیں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر کسی وجہ سے روزہ فاسد ہو جائے تو اس کے بعدرمضان کے احترام میں کھانے پینے سے احتراز کرنا واجب ہے، اور اگر  اس کے  باوجودے کوئی قصداً کھاپی لے تو اس پر روزے کی صرف قضاء ہی ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والأخيران يمسكان بقية يومهما وجوبا على الأصح) لأن الفطر قبيح وترك القبيح شرعا واجب (كمسافر أقام وحائض ونفساء طهرتا ومجنون أفاق ومريض صح) ومفطر ولو مكرها أو خطأ (وصبي بلغ وكافر أسلم وكلهم يقضون)...

كل من وجب عليه الصوم لوجود سبب الوجوب والأهلية ثم تعذر عليه المضي بأن أفطر متعمدا أو أصبح يوم الشك مفطرا ثم تبين أنه من رمضان أو تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع ثم تبين طلوعه، فإنه يجب عليه الإمساك تشبها اهـ".

(کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالایفسد، ج:۲، صفحہ: ۴۰۷،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100667

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں