بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روز قیامت حساب کتاب کے وقت انبیاء علیھم السلام بھی پسینہ میں ڈوبے ہوں گے ،ان الفاظ کا حکم


سوال

انبیاء کے متعلق یہ کہنا کہ: "بروزِ قیامت وہ بھی حساب و کتاب شروع ہونے  کے وقت پسینہ میں ڈوبے ہوں گے " ،کیا یہ کہنا شرعاً درست ہے یا پھر انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی ہے؟ اگر درست نہیں تو پھر اس کے قائل کے ساتھ  کیا معاملہ  کرنا چاہیے؟

جواب

احادیث مبارکہ میں کفار، فساق اورفجار کے بارے یہ مضمون ملتا ہے کہ قیامت کے ہولنا ک د ن میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ ہر ایک اپنے اعمال بد کے بقدر پسینے میں غرق ہوگا ،یہاں تک کہ بعض اپنے ٹخنوں تک پسینے میں ہوں گے ،بعض اپنے گھٹنوں تک ،بعض اپنے کولہوں (کمر کے اوپر ) تک اور بعضوں کا پسینہ ان کے منہ کے اندر تک جارہا ہوگا،اور مومنین کے بارے میں احادیث  مبارکہ میں یہ مضمون ملتا ہے کہ قیامت کا ہولناک دن ، جس کی طوالت پچاس ہزار برس کے برابر ہوگی ،ان   اللہ کے نیک بندوں پر  دنیا میں  فرض کی ادائیگی نماز سےبھی ہلکا ہوجائے گا،نیز احادیث مبارکہ میں یہ بھی آتا ہے کہ سات انواع كے لوگ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوں گے ،جس دن اللہ کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ،اور بھی  کئی طرح سے اس دن  نیکوکاروں کا اعزاز واکرام جاری رہے گا،تو جب عام مومنین کےساتھ یہ اعزاز واکرام کا معاملہ ہوگا ،تو انبیاء علیھم السلام کے ساتھ بدرجہ اولی ٰ اس سے زیادہ اعزاز واکرام کا معاملہ ہوگا،لہذا انبیاء علیھم السلام کے بارے میں یوں کہنا کہ (نعوذ باللہ ) وہ روز قیامت حساب کتاب کے وقت  پسینہ میں ڈوبے ہوں گے ،ہرگز درست نہیں ہے،اگر استخفاف اور تحقیر کے طور پرنہیں کہا ،بلکہ نادانی میں یہ جملہ نکل گیا ،تو یہ کفر تو نہیں ،تاہم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بارے اس طرح کی غیر محتاط گفتگو پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے ۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله: الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال، فقال إني أخاف الله، ورجل تصدق، أخفى حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه."

(کتاب الاذان ،‌‌باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد،ج:1،ص:133،رقم الحدیث:660،ط:دار طوق النجاة)

"ترجمہ :حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:  سات آدمیوں کو اللہ اپنے سایہ  میں رکھے گا جس دن کہ سوائے اس کے سایہ  کے اور کوئی سایہ نہ ہوگا : حاکمِ عادل، اور وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو ،اور وہ دو اشخاص جو باہم صرف اللہ کے لیے دوستی کریں، جب جمع ہوں تو اسی کے لیے اور جب جدا ہوں تو اسی کے لیے، اور وہ شخص جس کو کوئی منصب اور جمال والی عورت زنا کے لیے بلائے اور وہ یہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، اور وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا، اور وہ شخص جو خلوت میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جائیں۔"

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثني المقداد بن الأسود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « ‌تدنى ‌الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل. قال سليم بن عامر : فوالله ما أدري ما يعني بالميل، أمسافة الأرض أم الميل الذي تكتحل به العين. قال: فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق، فمنهم من يكون إلى كعبيه، ومنهم من يكون إلى ركبتيه، ومنهم من يكون إلى حقويه، ومنهم من يلجمه العرق إلجاما. قال: وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده إلى فيه."

(‌‌كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها،باب في صفة يوم القيامة أعاننا الله على أهواله،ج:8،ص:158،رقم الحدیث:2864،ط:دار الطباعة العامرة)

شرح نووی للمسلم میں ہے:

"قوله صلى الله عليه وسلم (يقوم أحدهم في رشحه إلى أنصاف أذنيه) وفي رواية فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق قال القاضي ويحتمل أن المراد عرق نفسه وغيره ويحتمل عرق نفسه خاصة وسبب كثرة العرق تراكم الأهوال ودنو الشمس من رؤسهم ورحمة بعضهم بعضا."

(‌‌كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها،باب في صفة يوم القيامة أعاننا الله على أهواله،ج:17،ص:195،ط:دار إحياء التراث العربي)

البعث والنشور للبيهقي ميں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن يوم كان مقداره خمسين ألف سنة، ما طول هذا اليوم؟ فقال:والذي نفسي بيده، ليخفف على المؤمن حتى يكون أهون عليه من الصلاة المكتوبة يصليها في الدنيا، وأما الكافر ففيها."

(باب قول الله عز وجل:في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة،ص:242،ط:مكتبة دار الحجاز للنشر والتوزيع)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"سئل عمن ينسب إلى الأنبياء الفواحش كعزمهم على الزنا ونحوه الذي يقوله الحشوية في يوسف عليه السلام قال: يكفر؛ لأنه شتم لهم واستخفاف بهم."

(کتاب السیر،‌‌مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام،ج:2،ص:263،ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411102008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں