بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں انزال کا حکم


سوال

روزہ کی حالت میں بیوی کے ساتھ لیٹے ہوئے  جاگتے ہوئے عضوِ  تناسل بیوی کی ٹانگوں میں      رکھے ہوئے بنا انزال کی خواہش کے مرد کو اگر انزال ہو جائے تو کیا روزہ فاسد ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے،قضا لازم ہوگی ، کفارہ  لازم نہیں ہوگا۔ نیز استغفار بھی کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ روزے کی حالت میں  بیوی کے    ساتھ     ہمبستری  کرنایاشرم گاہ کے علاوہ انزال کرنے سے بھی  اجتناب کریں؛ کیوں کہ عام طورپر  یہ چیزیں جماع کی طرف لے جاتی ہیں،اور  روزے کی حالت میں جماع حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(أو جامع فيما دون الفرج ولم ينزل) يعني في غير السبيلين   كسرة وفخذ وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما.

(قوله: ولم ينزل) .أما لو أنزل قضى فقط كما سيذكره المصنف أي بلا كفارة قال في الفتح وعمل المرأتين كعمل الرجال جماع أيضا فيما دون الفرج لا قضاء على واحدة منهما إلا إذا أنزلت ولا كفارة مع الإنزال."

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالا یفسد ہ۔398/2،ط،دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو أولج ولم ينزل فعليه القضاء والكفارة لوجود الجماع صورة ومعنى، إذ الجماع: هو الإيلاج، فأما الإنزال: ففراغ من الجماع فلا يعتبر ولو ‌أنزل ‌فيما ‌دون ‌الفرج فعليه القضاء ولا كفارة عليه لقصور في الجماع لوجوده معنى لا صورة."

(کتاب الصوم ،فصل حکم فساد الصوم،100/2،ط،دار الکتب العلمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا قبل امرأته، وأنزل فسد صومه من غير كفارة كذا في المحيط. وكذا في تقبيل الأمة والغلام وتقبيلها زوجها إذا رأت بللا، وإن وجدت لذة، ولم تر بللا فسد عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - خلافا لمحمد - رحمه الله تعالى - كذا في الزاهدي."

(کتاب الصوم ،النوع الاول  مایوجب القضاء دون الکفارۃ،204/1،ط،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100624

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں