بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

شب جمعہ، شب برات وغیرہ میں اہلِ قبور کی روحوں کے گھروں میں آنے سے متعلق روایت کی تحقیق


سوال

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے  کہ مومنین کی روحیں عید کے دن، روز عاشورہ، رجب کے   مہینے کے پہلے جمعہ، اور شب برات کو اپنے گھر کے باہر آکر کھڑی رہتی ہیں اور کہتی ہیں: آج کی رات ہمارے ایصال ثواب کی نیت سےصدقہ کر کے ہم پرمہربانی کرو. اگرچہ ایک روٹی ہی صحیح، ہم اس کے محتاج ہیں، اگر گھر والے ایصال ثواب نہ کریں تو وہ حسرت کے ساتھ لوٹ جاتی ہیں۔

برائے مہربانی اس حدیث کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

جواب

مذكوره روایت، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے عبد الرحیم بن احمد القاضی رحمه الله  کی  جانب منسوب’’دقائق الاخبار‘‘ میں اور سید عبد الاحد نوری رحمہ اللہ کی ’’الموعظۃ الحسنۃ ‘‘ میں  بحوالہ ’’تذکرہ‘‘ للقرطبی  نقل ہوئی ہے ، روایت کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں : 

"قال ابن عباس رضي الله عنهما: إذا كان يوم العيد ويوم العاشر من ذي الحجة ويوم ليلة الجمعة الأولى من رجب، ويوم ليلة النصف من شعبان، يخرجون الأموات من قبورهم فيقفون على أبواب بيوتهم، ويقولون: ترحموا علينا في هذه الليلة بصدقة أو بلقمة، فإنا محتاجون إليها، فإن لم تفعلوا فاذكرونا في هذه الليلة، هل واحد يذكرنا ؟ هل من واحد يرحمنا ؟ يا من سكنوا دورنا! يا من نكحوا نساءنا! يا من توسعوا بقصورنا! ونحن في ضيق قبورنا، يا من قسم أموالنا! يا من استبدل أيتامنا! ما منكم من أحد يتفكر غربتنا وفقرنا، كُتبنا مطوية، وكُتبكم منشورة وليس للميت في اللحد ثواب، فلا تنسونا بكسرة من خبزكم ودعائكم، فنحن محتاجون إليكم إن وجدوا من الصدقة أو الدعاء منهم، يرجعون فرحين مسرورين، وإن لم يجدوا، فيرجعون محزونين ومحرومين وأنينين. (تذكرة قرطبي). "        (اللفظ لعبد الأحد نوري)

(دقائق الأخبار في ذكر الجنة والنار، الباب التاسع عشر في أن الروح بعد الخروج يأتي إلى قبره ومنزله، (ص: 18 و19)، ط/ مكتبة الحرمين اندونيشيا 1426ه)

(الموعظة الحسنة، المجلس الثاني عشر، الکلام المتعلق بالروح، (ص: 207)، ط/ دار الكتب العلمية بيروت)

ليكن سید عبد الاحد نوری رحمہ اللہ  کے بیان کردہ حوالہ’’ تذکرہ قرطبی‘‘ میں یہ بات نہیں مل سکی۔ اسی روایت کو بعض حضرات نے درج ذیل الفاظ میں بھی  نقل فرمایا ہے: 

 "عن ابن عباس رضي الله عنهما: اذا کان یوم العید و یوم العشر و یوم الجمعة الاولی من شہر رجب و لیلة النصف من شعبان و لیلة الجمعة یخرج الاموات من قبورہم و یقفون علی ابواب بیوتھم و یقولون ترحموا علینا فی ھذہ اللیلة بصدقة ولو بلقمة من خبز فانا محتاجون الیھا فان لم یجدو شیٸا یرجعون بالحسرة. " 

(ایتان الارواح لدیارھم بعد الرواح لأحمد رضا ،(ص: 6)،ط/ رضا اکیڈمی بمبئي)

  مذكوره روايت چونکہ بغیر سند کے منقول ہے، لہذا اس کے بیان سے اجتناب کیا جائے ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں