بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

غیرشرعی لباس کی تجارت کاحکم


سوال

کیا ریشمی فینسی لیڈیز سوٹ جو کہ لڑکیاں شادی بیاہ کے مواقع پہ پہنتی ہیں ایسے سوٹ فروخت کرنا جائز ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رو سے جو چیز تغییر و تبدیل کے بغیر اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت کا آلہ ہو تو اس کی خرید و فروخت سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کا استعمال جائز اور نا جائزدونوں طرح ہو سکتا ہو تو ایسی چیز کی خرید و فروخت شرعا جا ئز ہے اورنا جائزاستعمال کا گنا ہ استعمال کرنے والے کو ہو گا چنانچہ اگر کسی کپڑے کو غیر شرعی طور پر سی لیا گیا ہو تو اجنبی کے سامنے استعمال اگر چہ جائز نہیں  لیکن شوہر کے سامنے خلوت میں ہر طرح کا لباس استعمال کیا جا سکتاہے اس لیے اس کپڑے کے بیچنے کی شرعا گنجا ئش ہے تا ہم جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ نا جائز طور پر استعمال کرے گا تو اس کو بیچنا کراہت سے خالی نہیں ۔

لہذ  ا  صورت مسئولہ کےمطابق  ریشمی فینسی لیڈیز سوٹ جو کہ لڑکیاں شادی بیاہ کے مواقع پہ پہنتی ہیں ایسے  کپڑے کی  خرید فروخت  کی گنجائش ہے لیکن  ایسے لباس جو بے  حیا ئی اور عریانی کا  ذریعہ بنتے ہوں  ان کی  خرید فروخت  سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وأفاد كلامهم أن ‌ما ‌قامت ‌المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر"

(کتاب الحظر والإباحة،٢٦٨/٤،ط  : دار الفكر)

تبیین الحقائق میں ہے:

"لا يكره بيع ‌الجارية ‌المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعماله المحظور ثم ذكروا أن الحديد لا يجوز بيعه من أهل الحرب وأجازوه من أهل البغي والذي يظهر من الفرق أن أهل البغي لا يتفرغون لاستعمال الحديد سلاحا لأن فسادهم على شرف الزوال بالتوبة أو بتفريق جمعهم بخلاف أهل الحرب."

‌‌[كتاب اللقيط،٢٧٩/٣،ط : المطبعة الكبرى الأميرية]

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌بيع ‌الزنار ‌من ‌النصارى والقلنسوة من المجوس لا يكره وبيع المكعب المفضض من الرجل إذا علم أنه اشتراه للبس يكره وبيع الغلام الأمرد ممن يعلم أنه يعصي الله تعالى يكره كذا في الخلاصة."

‌‌[كتاب البيوع،الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة،٢١٠/٣،ط : المطبعة الكبرى الأميرية]

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503103027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں