بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روایت:’’ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم‘‘ کی تخریج وتحقیق


سوال

 جمعۃ المبارک کے دوسرے خطبے میں ہم یہ الفاظ:"وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ اَبْغَضَهُمْ"پڑھتے ہیں ،ان  الفاظ کا ماخذ کیا ہے؟ یہ کس حدیث  میں ہیں؟ مجھے اس کا   حوالہ   چاہیے ۔َ

جواب

سوال میں جس روایت کے الفاظ ذکرکرکے اس کے حوالہ کے  متعلق  دریافت کیا گیا ہے، مذکورہ الفاظ"سنن الترمذي"، "مسند أحمد"، "شعب الإيمان للبيهقي"ودیگر کتب ِ حدیث میں مذکور ایک طویل  روایت  کا حصہ  ہیں۔"سنن الترمذي"میں اس روایت کے مکمل  الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا محمّد بنُ يحيى، قال: حدّثنا يعقوب بنُ إبراهيم بنِ سعدٍ، قال: حدّثنا عَبِيدة بنُ أبي رائِطةَ عن عبد الرحمن بنِ زيادٍ عن عبد الله بنِ مُغفَّلٍ-رضي الله عنه- قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم- : اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَه".

(سنن الترمذي، أبواب المناقب، باب في من سبّ أصحاب النبي -صلّى الله عليه وسلّم-، 5/696، رقم:3862، ط: مصطفى البابي الحلبي-مصر)

ترجمہ:

’’(حضرت) عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے بارے میں،میرے بعد انہیں ہدفِ ملامت  مت بنانا، جو شخص   ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے  کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، اور جو  شخص ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا،اور جس شخص نے انہیں ایذاء وتکلیف پہنچائی  اس نے مجھے ایذاء وتکلیف پہنچائی ، اور جس شخص نے مجھے ایذاء وتکلیف پہنچائی  اس نے  اللہ تعالی  کو ایذاء وتکلیف پہنچائی ، اور جس شخص نے اللہ تعالی کو ایذاء وتکلیف پہنچائی  قریب ہے کہ وہ اسے اپنی پکڑ میں لے لے‘‘۔

امام ترمذی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"هَذا حديثٌ غريبٌ لا نعرِفُه إلّا مِنْ هَذا الوجهِ".

(المصدر السابق)

ترجمہ:

’’یہ حدیث (سند کے اعتبار سے) ’’غریب ‘‘ ہے،ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں‘‘۔

علامہ مناوی رحمہ اللہ"فيض القدير شرح الجامع الصغير"میں  لکھتےہیں:

"(ت) في المناقب (عن عبد الله بن مغفّل)  ... واستغربَه. قال الصّدر المناويُّ: وفيه عبدُ الرحمن بنُ زيادٍ: قال الذهبيُّ: لا يُعرف. وفي الميزان: في الحديثِ اضطرابٌ".

(فيض القدير، حرف الهمزة، 2/98، رقم:1442، ط: المكتبة التجارية الكبرى-مصر)

ترجمہ:

’’(امام) ترمذی (رحمہ اللہ) نے "أبواب المناقب"میں  (حضرت) عبد اللہ بن مغفل (رضی اللہ عنہ) سے  اسے روایت کیا ہے،اور ’’غریب‘‘ کہا ہے۔(علامہ) صدر مناوی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اس روایت (کی سند) میں ’’عبد الرحمن بن زیاد‘‘ہے،(حافظ) ذہبی (رحمہ اللہ اس کے متعلق)  فرماتے ہیں:"لا يُعرف"(یعنی وہ معروف نہیں ،بلکہ مجہول ہے)۔ نیز  (حافظ ذہبی رحمہ اللہ)"ميزان الاعتدال"میں لکھتے ہیں:اس حدیث میں ’’اضطراب‘‘ ہے‘‘۔

نيز علامہ مناوی رحمہ اللہ "التيسير بشرح الجامع الصغير"میں  لکھتے ہیں:

"(ت عن عبد الله بن مغفّل) وفي إِسنادِه اضطرابٌ وغَرابةٌ".

(التيسير بشرح الجامع الصغير، حرف الهمزة، 1/206، ط: مكتبة الإمام الشافعي-الرياض)

ترجمہ:

’’(امام) ترمذی (رحمہ اللہ) نے اسے (حضرت) عبد اللہ بن مغفل (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ’’اضطراب‘‘ اور ’’غرابت‘‘ ہے‘‘۔

علامہ  احمد بن محمد بن صدیق غماری رحمہ اللہ"المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي"میں لکھتے ہیں:

"قال الشّارحُ في الكبير: قال الصّدر المناويُّ: فيه عبدُ الرحمن بنُ زيادٍ: قال الذهبيُّ: لا يُعرف، وفي الميزان: في الحديثِ اضطرابٌ.

قلتُ: ليسَ في "الميزان" شيءٌ مِنْ هَذا، والاضطرابُ وقع في اسم عبدِ الرحمن ابن زيادٍ، فقيل كذلك، وقيلَ: عبد اللَّه بنُ عبد الرحمن، وكذلك وقع في رواية أبي نعيم في "الحلية" [8/ 287]  ... وقيلَ: عبد الرحمن بنُ عبد اللَّه، وقيل: عبد الملك بنُ عبد الرحمن، وإليك نصَّ الذهبيِّ في "الميزان" [2/ 452]: عبد الرحمن بنُ زيادٍ، وقيلَ: عبدُ اللَّه، وقيلَ غيرُ ذلك عن عبد اللَّه بن مغفّل حديثُ: "اللَّهَ اللَّهَ في أصحابيْ"، تفرّد عنه عَبِيدة بنُ أبي رائطة، قال ابنُ معين: لا أعرِفُه اهـ.".

(المداوي، حرف الهمزة، ج:2، ص:193-194، رقم:740، ط: دار الكتبي- القاهرة)

ترجمہ:

’’شارح(  علامہ مناوی  رحمہ اللہ ) "الشرح الكبير (فيض القدير شرح الجامع الصغير)"میں لکھتے ہیں:(علامہ) صدر مناوی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اس روایت (کی سند) میں ’’عبد الرحمن بن زیاد‘‘ہے،(حافظ) ذہبی (رحمہ اللہ اس کے متعلق)  فرماتے ہیں:"لا يُعرف"(یعنی وہ معروف نہیں ،بلکہ مجہول ہے)۔ نیز  (حافظ ذہبی رحمہ اللہ)"ميزان الاعتدال"میں لکھتے ہیں:اس حدیث  میں ’’اضطراب‘‘ ہے۔

میں (علامہ  احمد بن محمد بن صدیق غماری رحمہ اللہ)کہتا ہوں:"ميزان الاعتدال"میں اس میں سے کوئی کلام نہیں ہے(یعنی بعینہ یہی کلام اس میں مذکور نہیں ہے)۔ ’’اضطراب‘‘  (حدیث میں واقع  نہیں ہوا ،بلکہ  اس کی سند میں ایک راوی)’’عبد الرحمن بن زیاد‘‘ کے نام میں   واقع ہوا ہے،چنانچہ (اس  کانام )۱۔    ایک قول کے متعلق  اسی طرح ہے(یعنی عبد الرحمن بن زیاد)۔۲۔ایک  قول کے مطابق عبد اللہ بن عبد الرحمن  ہے،"حلية الأولياء"(۸/۲۸۷)میں (حافظ) ابو نعیم (اصفہانی رحمہ اللہ) کی روایت میں اسی طرح ہے۔۔۔۳۔ایک قول  کے مطابق عبد الرحمن بن عبد اللہ ہے۔۴۔ایک قول کے مطابق  عبد الملک بن عبد الرحمن ہے۔"ميزان الاعتدال"(۲/۴۵۲)  پر (حافظ) ذہبی (رحمہ اللہ) کی عبارت ملاحظہ کیجیے:"عبد الرحمن بنُ زيادٍ: وقيلَ: عبدُ اللَّه، وقيلَ غيرُ ذلك عن عبد اللَّه بن مغفّل حديثُ: "اللَّهَ اللَّهَ في أصحابيْ"، تفرّد عنه عَبِيدة بنُ أبي رائطة، قال ابنُ معين: لا أعرِفُه اهـ." (عبد الرحمن بن زیاد  نے (ایک قول کے مطابق (اس کانام )عبد اللہ ہے، اس کے علاوہ اور اقوال  بھی ہیں )۔(حضرت) عبد اللہ بن مغفل (رضی اللہ عنہ ) سے حدیث :"اللَّهَ اللَّهَ في أصحابيْ"( اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے بارے میں) روایت کی ہے،’’ عَبِیدہ بن   ابو رائطہ ‘‘(  اس روایت کو) اس سے( روایت  کرنے میں) متفرد ہے، (حافظ یحیی)ا بنِ معین (رحمہ اللہ   ) فرماتے ہیں:میں اسے نہیں جانتا (یعنی وہ معروف نہیں ،بلکہ مجہول ہے)‘‘۔

(المداوي، حرف الهمزة، ج:2، ص:193-194، رقم:740، ط: دار الكتبي- القاهرة)

امام بیہقی رحمہ اللہ"شعب الإيمان"میں مذکورہ حدیث ذکرکرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"وقد ذكرنا شواهدَه في كتاب الفضائل".

(شعب الإيمان، حب النبي-صلى الله عليه وسلم-، 3/93، رقم:1424، ط: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع-الرياض)

ترجمہ:

 ’’ہم نے "كتاب الفضائل" میں اس حدیث کے شواہد ذکر کیے ہیں‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ  روایت:"اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَه" سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، تاہم اس کے  شواہد موجود ہیں،  جن سے اس کے معنی  کی تائید ہوتی ہے، لہذا اسے بیان کرسکتے ہیں۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509101283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں