بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روایت:’’مسواک کرکے پڑھی گئی نماز بغیرمسواک کے پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے‘‘ کی تخریج وتحقیق


سوال

درج ذیل حدیث   کی  اسنادی حیثیت کیا ہے؟ اس کی تحقیق مطلوب ہے۔

’’مسواک کرکے پڑھی گئی نماز بغیرمسواک کے پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے  جس حدیث کے الفاظ ذکرکرکے اس کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ حدیث"صحيح ابن خزيمة"، "المستدرك على الصحيحين"، "السنن الكبرى للبيهقي"، "شعب الإيمان للبيهقي"ودیگر کتبِ حدیث میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکور ہے۔"شعب الإيمان للبيهقي"کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، حدّثنا أبو محمّد عبد الرحمن بن محمد بن حمدان الجلّاب، حدّثنا إسحاق بن أحمد بن مِهران الرازيُّ، حدّثنا إسحاق بن سُليمان الرازيُّ، حدّثنا معاوية بن يحيى عن الزّهريِّ عن عُروة عن عائشة -رضي الله عنها-، قالتْ: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-:  تَفضلُ الصّلاة التي يُستاك لها على الصّلاة التي لا يُستاك لها سبعين ضِعفاً".

(شعب الإيمان، الطهارات، 4/280، رقم:2519، ط: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع-الرياض)

ترجمہ:

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس  نماز کے لیے مسواک کی گئی  ہو وہ اس نماز سے  ستر درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہےجس کے لیے مسواک نہ کی گئی  ہو ‘‘۔

 حافظ سخاوی رحمہ اللہ "المقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة"میں مذکورہ  روایت کی مختلف سندوں   پرکلام کرتے  ہوئے لکھتے ہیں:

"حديثُ: صَلاةٌ بِسواكٍ خيرٌ مِن سَبعين صلاةً بِغير سواكٍ، البيهقيُّ مِن حديث فَرج بن فُضالة عن عروة بن رويم عن عمرة عن عائشة مرفوعاً به، وقال: إنّه غير قويِّ الإسناد، وساقه أيضاً مِن طريق الواقديِّ عن عبد الله بن يحيى الأسلميِّ عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة مرفوعاً بلِفظ: الرّكعتان بعد السّواك أحبُّ إليَّ مِن سبعين ركعةً قبل السِّواك، وضعّفه أيضاً الواقديُّ، وقد رَواهُ مِن غير جهته الحارث بنُ أبي أسامة في مُسنده مِن رواية ابن لَهيعة عن أبي الأسود بِلفظ: صلاةٌ على أثر سواكٍ أفضلُ مِن سبعين صلاةً بغير سواكٍ، بل أخرجه ابنُ خزيمة وغيرُه كأحمد والبزّار والبيهقي مِن طريق ابن إسحاق قال: ذكر الزهريُّ عن عروة بِلفظ: فضلُ الصّلاة التي يُستاك لها على الصلاة التي لا يُستاك لها سبعين ضِعفاً، وتوقّف ابنُ خزيمة والبيهقيُّ في صحّته؛ خوفاً مِن أن يكون مِن تدليسات ابن إسحاق، وأنّه لم يسمعه مِن الزّهري، لا سيّما وقد قال الإمام أحمد: أنّه إذا قال: "ذكره"، فلم يسمعه، وانتُقد بِذلك تصحيحُ الحاكم له، وهو قولُه: إنّه على شرط مُسلمٍ، ولكن قد رواه مُعاوية بنُ يحيى عن الزّهري، أخرجه البزّار وأبو يعلى والبيهقي وجماعةٌ، منهم ابنُ عدي في كامِله، وفي معاوية ضُعف أيضاً، قال البيهقي: ويُقال إنّ ابن إسحاق أخذه منه، ورواه أبو نُعيم من حديث الحُميدي عن سفيان عن منصورٍ عن الزّهري، ورِجالُه ثقاتٌ.

وفي الباب عن أبي هريرة عند ابن عدي في كامله بِلفظ: صلاةٌ في أثر سواكٍ أفضلُ مِن خمس وسبعين ركعةً بِغير سواكٍ، وعن ابن عباس عند أبي نُعيم في السّواك له بِلفظ: لَأنْ أصلِّيَ ركعتين بِسواكٍ أحبُّ إليًّ مِن أنْ أصلِّي سبعين ركعةً بِغير سواكٍ، وسندُه جيِّدٌ، وعن أنس وجابر وابن عمر. وكذا عن أمِّ الدرداء وجُبير بن نُفير مرسلاً، كما بيّنتُه في بعض التصانيف، وبعضُها يعتضدُ بِبعضٍ، ولذا أورده الضِّياء في المختارة مِن جهة بعض هؤلاء، وقولُ ابنِ عبد البر في التمهيد عن ابن معينٍ: إنّه حديثٌ باطلٌ، هو بِالنسبة لِما وقع له مِن طُرُقِه".

ترجمہ:

’’(۱)حدیث:"صَلاةٌ بِسواكٍ خيرٌ مِن سبعين صلاةً بغير سواكٍ"(مسواک کے ساتھ (پڑھی گئی) نماز بغیر  مسواک کے (پڑھی گئی )نماز  سےستر درجہ بہتر ہے)،(امام)بیہقی رحمہ اللہ  نےاسے"فَرج بن فُضالة عن عُروة بن رُويم عن عمرة عن عائشة"کے طریق سے مرفوعاً(روایت کیا ہے)اور(اس کا حکم بیان کرتے ہوئے) لکھا ہے:"إنّه غيرُ قويِّ الإسناد"(اس  حدیث کی سند قوی نہیں ہے)۔

(۲)نیز(امام بیہقی رحمہ اللہ اسے) "الواقدي عن عبد الله بن يحيى الأسلمي عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة"کے طریق سے:"الرّكعتان بعد السواك أحبُّ إليَّ مِن سبعين ركعةً قبل السِّواك"(مسواک کے ساتھ (پڑھی گئی) دو رکعتیں  مجھے  مسواک  کے بغیر  (پڑھی گئی)   ستر رکعتوں سے  زیادہ  پسندیدہ ہیں)  کے الفاظ سے بھی لائے ہیں، اس طریق کو بھی واقدی رحمہ اللہ  نے ضعیف قرار دیا ہے۔

(۳) حارث بن ابی اسامہ  رحمہ اللہ نے اپنی ’’مسند‘‘ میں اسے  "ابن لهيعة عن أبي الأسود" کے طریق  سے:"صلاةٌ على أثر سواكٍ أفضلُ مِن سبعين صلاةً بغير سواكٍ"(مسواک(کرنے) کے بعد   (پڑھی گئی ) ایک نماز بغیر مسواک کے(پڑھی گئی) ستر نمازوں سے افضل ہے) کے الفاظ سے  روایت کیا ہے۔

(۴)بلکہ (حافظ ) ابنِ خزیمہ رحمہ اللہ  ودیگر جیسے  (امام) احمد،(امام) بزاراور (امام) بیہقی رحمہم اللہ نے ابنِ اسحاق کے طریق   سے تخریج کیا ہےکہ (امام )زہری رحمہ اللہ  نے عروہ سے (روایت کرتے ہوئے) اسے"فضلُ الصّلاة التي يُستاك لها على الصلاة التي لا يُستاك لها سبعين ضِعفاً"(مسواک کے ساتھ  پڑھی گئی نماز  کو بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز پر  ستر درجے فضیلت حاصل ہے)کے الفاظ سے ذکر کیا ہے،(امام) بیہقی  اور(حافظ) ابنِ خزیمہ رحمہما اللہ نے اس طریق  پر صحت کا حکم لگانے میں توقف کیا ہے  اس اندیشہ سے کہ یہ ابنِ اسحاق کی تدلیسات میں سے  ہو اور  اس نے (امام )زہری رحمہ اللہ  سے اس کا سماع  نہ کیا ہو، خاص طور پر امام احمد رحمہ اللہ نے تو فرمایا ہے:ابنِ اسحاق جب(روایت کرتے ہوئے)"ذكره"کہیں تو انہوں نے سماع نہیں کیا ہوتا(یعنی اس روایت میں  "ذكره"کہنا ہی اس کی دلیل ہے کہ انہوں نے سماع نہیں کیا)، اسی وجہ سے (امام) حاکم  رحمہ اللہ کے اسےصحیح قراردینے کی وجہ سے ان پر نقد کیا گیا ہے،انہوں نے  لکھا ہے:"إنّه على شرط مُسلمٍ"(یہ  حدیث (امام) مسلم رحمہ اللہ کی شرط کے مطابق ہے)۔

(۵)لیکن   معاویہ بن یحیی نے   اسے (امام) زہری  رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے،(امام )بزار، ( حافظ) ابو یعلی ،(امام ) بیہقی رحمہم اللہ اور (ان کے علاوہ  محدثین کی) ایک جماعت نے اس  کی تخریج کی ہے،جن میں سے (حافظ) ابنِ عدی رحمہ اللہ  اپنی ’’کامل(کامل ابنِ عدی)‘‘ میں (اسے ذکر کیا ہے)،(اس طریق کا راوی) معاویہ  بھی ضعیف ہے،(امام) بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:کہاجاتا ہےکہ ابنِ اسحاق نے یہ حدیث  معاویہ سے لی ہے۔

(۶)(حافظ) ابو نعیم رحمہ اللہ نے اسے "الحميدي عن سفيان عن منصور عن الزهري"کے طریق سے روایت کیا ہے، اس  طریق کے سب روات ثقہ ہیں۔

نیز اس باب میں  (حافظ) ابنِ عدی رحمہ اللہ  کی ’’کامل‘‘ میں  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت :"صلاةٌ في أثر سواكٍ أفضل مِن خمس وسبعين ركعةً بغير سواكٍ"(مسواک کے ساتھ(پڑھی گئی ) نماز بغیر مسواک کے (پڑھی گئی )  پچھتر نمازوں سے  افضل ہے) کے الفاظ سے مروی ہے۔(حافظ) ابو نعیم  رحمہ اللہ کے ہا ں "باب السواك"میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  کی روایت:"لأن أصلِّي ركعتين بِسواكٍ أحبُّ إليَّ مِن أن أصلِّي سبعين ركعةً بِغير سواكٍ"(میں مسواک کرکے دو رکعت پڑھوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ بغیر مسواک کیےستر رکعت پڑھوں) کے الفاظ سے مروی ہے،اور اس کی سند جید(یعنی حسن) ہے۔اور  اس باب  میں   (حضرت) انس ،(حضرت) جابراور(حضرت) ابنِ عمر رضی اللہ عنہم سے بھی  (روایات مروی ) ہیں، نیز (حضرت) ام الدرداء اور (حضرت) جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہما سے(بھی) مرسلاً روایت مروی  ہے،(جیساکہ میں نے   اپنی کسی تصنیف میں اسے بیان کیا ہے)، اور یہ سب روایات  ایک دوسرے کے لیے عاضد کاکام  دیتی  ہیں(یعنی ایک دوسرے کے لیے تائید وتقویت کاکام  دیتی ہیں )؛ اسی لیے (حافظ) ضیاء الدین (مقدسی ) رحمہ اللہ "الأحاديث المختارة"میں  یہ روایت  انہی میں سے بعض  حضرات سے لائے ہیں۔(حافظ) ابنِ عبد البر رحمہ اللہ کا "التمهيد(لما في الموطأ من المعاني والأسانيد)"(حافظ یحیی) ابنِ معین  رحمہ  اللہ سے( روایت کرتے ہوئے ) یہ کہناکہ:"إنّه حديثٌ باطلٌ"(یہ حدیث باطل ہے)، (حافظ یحیی بن معین رحمہ اللہ کا یہ قول) صرف   ان طرق کے اعتبار سے جن کی انہیں واقفیت ہوئی تھی‘‘۔

(المقاصد الحسنة، حرف الصاد المهملة، ص:423-424، رقم:625، ط: دار الكتاب العربي-بيروت)

علامہ عجلونی رحمہ اللہ  نے "كشف الخفاء ومزيل الألباس"میں  حافظ سخاوی رحمہ اللہ    کا کلام  نقل کیا ہے او رآخر میں لکھا ہے:

"قال ابنُ الغرس: الذي فهمتُه مِن كلامِهم أنّه ضعيفٌ أو حسنٌ لِغيرِه".

ترجمہ:

’’ابن الغرس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ان حضرات محدثین رحمہم اللہ کے کلام سے میں یہ سمجھا ہوں کہ یہ حدیث (سند کے اعتبار سے) ضعیف ، یاحسن لغیرہ ہے‘‘۔

(كشف الخفاء، حرف الصاد المهلمة، ج:2، ص:28-29، ط:المكتبة العصرية)

خلاصہ کلام:

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’’مسواک کرکے پڑھی گئی نماز بغیرمسواک کے پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہونے‘‘  سے متعلق  حضرت عائشہ،حضرت ابنِ عباس،   حضرت ابوہریرہ، حضرت انس ،حضرت جابر،حضرت ابنِ عمر،  حضرت ام الدرداء اور حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہم اجمعین  سے  مختلف روایات ، الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مروی ہیں،  جن میں سے بعض طرق ، سند کے اعتبار سے ضعیف   ہیں، اور بعض طرق،  سند کے اعتبار سے صحیح،یاحسن ہیں،چنانچہ: "فضلُ الصّلاة التي يُستاك لها على الصلاة التي لا يُستاك لها سبعين ضِعفاً"(مسواک کے ساتھ  پڑھی گئی نماز  کو بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز پر  ستر درجے فضیلت حاصل ہے) کے الفاظ: "الحميدي عن سفيان عن منصور عن الزهري"کے طریق سے بھی   مروی ہیں اور اس  طریق کےتمام روات ثقہ  ہیں۔اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  کی روایت:"لأن أصلِّي ركعتين بِسواكٍ أحبُّ إليَّ مِن أن أصلِّي سبعين ركعةً بِغير سواكٍ"(میں مسواک کرکے دو رکعت پڑھوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ بغیر مسواک کیےستر رکعت پڑھوں) کے الفاظ سے مروی ہے،اور اس کی سند جید(یعنی حسن) ہے۔ تاہم حافظ سخاوی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر یہ تمام روایات اور مختلف طرق ایک دوسرے  کے لیے اعتضاد وتقویت کاکام دیتے ہیں   اور ان سب کے مل جانے سے ایک    کو دوسرے سے  تائید وتقویت حاصل ہوجاتی ہے، اس لیے  ’’مسواک کرکے پڑھی گئی نماز بغیرمسواک کے پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہونے‘‘  سے متعلق مذکور ہ  روایت قابلِ عمل ہے اوراسے بیان  کیاجاتا ہے۔اور  علامہ عحجلونی رحمہ اللہ نے  ابن الغرس رحمہ اللہ کے حوالے نقل کیا ہےکہ  اس روایت کے بارے میں حضرات محدثین رحمہم اللہ کے کلام سے میں یہ سمجھا ہوں کہ یہ حدیث ،سند کے اعتبار سےضعیف ، یاحسن لغیرہ ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506101710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں