بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

روایت اسی سال کے بوڑھے کے گناہ کا لکھا جانا کی تحقیق


سوال

کیا ایسی کوئی حدیث ہے کہ جس میں یہ فرمایاگیا ہو کہ: " اگر انسان بوڑھا ہوجائے اور اس کی عمر اسی  سال ہوجائے تو اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے"۔

اگر  ایسی کوئی حدیث یا اس کے قریب کی کوئی حدیث ہے تو اس  کا معنی اور مطلب واضح فرمائیں  کہ گناہ نہ لکھے جانے سے کیا مراد ہے؟

جواب

مذکورہ سوال دو اجزا پر مشتمل ہے:

  1. حدیث کی تحقیق
  2. حدیث کا معنی ومطلب

                        حدیث کی تحقیق:

            سوال میں مذکور  حدیث، حدیث اور علل ِحدیث کی بیسیوں کتابوں میں متعدد سندوں کے ساتھ مختلف پیرایوں سے منقول ہے۔(مسند أحمد، ط: دارالحديث، ت: أحمد محمد شاكر 5/145 برقم:5626. علل الدارقطني، ط: دارطيبة، ت: محفوظ الرحمن 15/113. حلية الأولياء، طمطبعة السعادة 8/215. لسان الميزان، ط: مؤسسة الأعلمي 3/226)

           حضرت انس رضی اللہ عنہ کے  طریق سے مروی طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے :

"... فإذا بلغ الثمانين قبل الله حسناته وتجاوز عن سيئاته".

               ترجمہ:

"جب بندہ ، اسلام کی حالت میں اسی 80 سال کو پہنچ جاۓ تو اللہ اس کی نیکیوں کو قبول فرماتے ہیں اور لغزشوں سے درگزر کرتے ہیں۔"

           اس روایت کو ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"الموضوعات" میں تین مختلف سندوں کے ساتھ نقل کرکے سب کو مخدوش قرار دیا ہے اور حدیث پر عدم صحت کا حکم لگایا ہے۔( الموضوعات، ابن الجوزي، ط: المكتبة السلفية، ت: عبد الرحمن محمد عثمان، 179)

              حافظ ابن کثیر نے "تفسیر ابن کثیر" میں اس کو "شدید منکر" کہا ہے۔(تفسير ابن كثير،ط: دار الكتب العلمية، ت: محمد حسين شمس الدين 348،349/5)

              لیکن حافظ ابن حجر نے "القول المسدد" اور "الخصال المكفرة" میں، اور علامہ سیوطی نے "اللآلي المصنوعة"میں اس روایت کے متعدد طرق ذکر کرکے عدم صحت کے قائلین پر رد کیا ہے۔(القول المسدد في الذب عن مسند أحمد، ط: مكتبة ابن تيمية،ص: 22، 23، 24،الخصال المكفرة للذنوب المتقدمة والمتأخرة، ابن حجر، ط: دار ماجد عسيري، الطبعة الأولى، 1422ه-2001، تحقيق: عمرو عبد المنعم سليم، حديث في فضل التعمير في الإسلام،ص:71-95، اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة، ط: دار الكتب العلمية 127،135/1)

            علامہ شوکانی نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بنام "زهر النسرين الفائح بفضال المعمرين" لکھا ہے جس میں آپ نے اس حدیث کے متعدد طرق پر سیر حاصل بحث کی ہے، آخر میں تجزیہ کرتے ہوۓ رقمطراز ہیں:

"ما قبلتفصیل  سے یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ احادیث میں سے بعض ،بعض کے لیے مؤید بن رہی ہیں سو یہ "حسن لغیرہ" کے قبیل سےہوجاۓ گی؛ کیونکہ یہ احادیث آٹھ صحابہ کرام سے مروی ہیں، بلکہ صرف حضرت انس سے مروی روایت کثرت طرق کی بنا پر "حسن لغیرہ"  تک پہنچ سکتی ہے، اور اہل فن سے یہ بات مخفی نہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ والی روایت کی اسانید میں سے بعض سندیں "حسن لذاتہ" بھی بن سکتی ہیں".

         خلاصہ کلام  یہ ہے کہ دریافت طلب عبارت، حدیث کی عبارت کا ترجمہ ومفہوم  ہے۔ 

                        حدیث کا معنی ومطلب:

 حدیث کی بے غبار تشریح یہ ہے کہ مسلمان بزرگ کے لیے یہ ایک اعزازی ڈگری ہے کہ پیرانہ سالی تک پہنچ جانے کے بعد اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے، لیکن اس میں ایک قید ملحوظ ہے کہ اس بزرگوار مومن کی سابقہ زندگی طاعت الٰہی کا شاہکار رہی ہو، ورنہ جوانی سے گناہ کے عادی مسلمان  بوڑھے کا  گناہ و عصیان کا ارتکاب اس کے خبث باطن کا نتیجہ ہوگا نہ کہ ضعف قوی کا۔

(الخصال المكفرة للذنوب المقدمة والمؤخرة،94)

 اس قید والی بات کی تائید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک روایت سے ہوتی ہے جس کو ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

"إذا بلغ المؤمن أرذل العمر وكان يعمل في شبابه عملاً صالحًا كَتَبَ الله له من الأجر مثل ما كان يعمل في صحته وشبابه، ولم يضره ما عمل في كبره، ولم يكتب عليه الخطايا التي يعمل بعد ما يبلغ أرذل العمر".

(جز عم من التفسير المسند لابن مردويه،  تحت تفسير سورة التين)

ترجمہ:

           " مومن بندہ جب ارذل عمر کو پہنچ جاۓ اور جوانی میں نیکو کار رہا ہو تو اللہ تعالی اس کو اس کے اس نیک عمل کا ثواب دیتا رہتا ہے جس کو وہ تندرستی اور جوانی میں کیا کرتا تھا، بڑھاپے میں جو کرے اس کا وبال نہیں ہوگا، اور ارذل عمر تک پہنچنے کے بعد اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے

                                                                                                                                                               فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں