بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 شوال 1441ھ- 01 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

رشوت کے پیسوں سے خریدی گئی چیز کے لینے کا حکم


سوال

میرا ایک شیعہ دوست ہے میں نے اس سے ایک چیز لی تھی وہ بھی مجھ سے اکثر چیز لیتا رہتاتھا اس کے والد کوئی کاروبار کرتے ہیں اور شاید کبھی کبھی اس میں رشوت بھی لیتے اور دیتے ہیں تو مجھے وہ چیز استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت استعمال میں لانا یا اس رقم سے مسجد کے لیے کوئی چیز خریدنا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

جو چیز سائل کودی گئی ہے اگر وہی چیز رشوت میں لی گئی ہے یا رشوت کے پیسوں سے خریدی گئی ہے تو سائل کے لیے اس چیز کا لینا ناجائز ہے۔ اسی طرح مسجد میں دینا جائزنہیں ،اگر کبھی کبھی رشوت کا ارتکاب کرتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ جو چیز دی جارہی ہے وہ رشوت کی ہے یا رشوت سے حاصل شدہ آمدنی کی ہے تو لینا جائز ہے ،البتہ بہتر یہ ہے کہ نہ لے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے