بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

رشوت دے کر پیٹرول پمپ کھولنا


سوال

اس  صورت  میں پٹرول پمپ کھولنا جائز ہے کہ جب رشوت دے کر کھولا جائے؛ کیوں کہ پٹرول پمپ بغیر رشوت کے نہیں کھلتا؟

جواب

واضح رہے کہ رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے،  رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز اور حرام  ہیں؛ لہٰذا بصورتِ  مسئولہ  پٹرول پمپ کھولنے کے  لیے اگر  رشوت  دینا  پڑتی ہو  تو کوئی اور متبادل کام کرکے رشوت کی  لعنت  سے  بچاجائے ۔

’’عن ثوبان قال: ’’لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی والرائش‘‘ یعنی: الذی یمشی بینہما.‘‘

(مسند أحمد،۳۷/۸۵، قال الهیثمي في المجمع، ۴/۳۵۸: فیه أبو الخطاب و هو مجهول)

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رشوت دینے اور لینے والے پر، اور ان کے درمیان واسطہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘

البحرالرائق میں ہے:

''الثاني إذا دفع الرشوة إلى القاضي ليقضي له، حرم من الجانبين سواءً كان القضاء بحق أو بغير حق، ومنها إذا دفع الرشوة خوفاً على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع." (17/333)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200493

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں