بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

رشتے داروں میں محبت پیدا کرنے کا وظیفہ


سوال

  میں جسے پسند کرتی ہوں اس کے گھر والے اور میرے گھر والے راضی ہیں اس رشتے کے لیے لیکن کچھ رشتہ دار خاندان والے ہیں جو ہماری رشتے میں رکاوٹ لا رہے ہیں کچھ پڑھنے کے لیے بتائیں جس کے ساتھ خیریت سے ہمارے رشتہ بھی ہو جائے اور شادی بھی ہو جائے اس کے گھر والے اور میرے گھر والوں کو بھڑکایا جا رہا ہے ایک دوسرے کے خلاف میں جسے پسند کرتی ہوں وہ میرا کزن ہے تو ہم دونوں فیملی کو لڑوا رہے ہیں ہمارے رشتے دار، تو کچھ پڑھنے کے لیے بتائیں جس سے ساتھ خیریت سے ہمارے رشتہ پکا ہو جائے ہماری شادی ہو جائے۔ مجھے پڑھنے کے لیے ضرور بتائیے گا جس سے میرا مسئلہ حل ہو جائے۔

جواب

آپ "يا ودود" کا کثرت سے ورد کریں اور رشتہ داروں کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے اس دعاء کا اہتمام کریں "اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَااس  کے ساتھ ہی سورۃ فرقان کی آیت نمبر 74 "رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنا لِلْمُتَّقِينَ إِماماً"کے ورد کا اہتمام کریں اور اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھیں۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"969 - حدثنا تميم بن المنتصر، أخبرنا إسحاق يعني ابن يوسف، عن شريك، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، قال: كنا لا ندري ما نقول إذا جلسنا في الصلاة، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد علم فذكر نحوه، قال شريك: وحدثنا جامع يعني ابن أبي شداد، عن أبي وائل، عن عبد الله، بمثله، قال: وكان يعلمنا كلمات ولم يكن يعلمناهن كما يعلمنا التشهد: «‌اللهم ‌ألف ‌بين قلوبنا، وأصلح ذات بيننا، واهدنا سبل السلام، ونجنا من الظلمات إلى النور، وجنبنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا، وتب علينا، إنك أنت التواب الرحيم، واجعلنا شاكرين لنعمتك، مثنين بها، قابليها وأتمها علينا»".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب تفريع أبواب الركوع والسجود، باب التشهد، 1/ 254 ت محيي الدين عبد الحميد، ط: ‌‌المكتبة العصرية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100095

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں