بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رحم سے نکلنے والی رطوبت کا حکم


سوال

مجھے لیکوریا کا مسلہ نہیں ہے، لیکن کبھی کبھی کام کرتے اٹھتے بیٹھتے تھوڑا بہت پانی نکل آتا ہے، کبھی تو پتلاپانی کی طرح ہوتا ہے، اور کبھی انڈے کی سفیدی کی طرح جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو پتہ چل جاتا ہے، لیکن جب وضو کروں تو پانی سے استنجاء کرنے کی وجہ سے بعد میں اگر پانی کی طرح کا پانی آ جائے تو اسکا پتہ نہیں چلتا اگر سفید رنگ کا ہو تو پتہ چل جاتا ہے کہ مذی ہے، لیکن کبھی بلکل پانی کی طرح ہی پانی نکلتا ہے ،جس کا پتہ نہیں چلتا کہ استنجاء کرنے کا پانی ہے یا پھر دوسرا جس سے وضو ٹوٹ جائے، کیا جو پانی کی طرح کا پانی نکلے تھوڑی سی مقدار میں تو اُس سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ اور اگر پتہ ہی نا چلے تو کیا حکم ہے؟ بعض اوقات اتنا معمولی سا ہوتا ہے ٹشو سے صاف کرو تو بھی پتہ نہیں چلتا، اور بعض اوقات تری سی محسوس ہوتی ہے، لیکن صاف کروں تو نہیں پتہ چلتا، اور بعض اوقات پہلےپانی سے استنجاءکرنے کی وجہ سے گِیلا ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ پہلے والا پانی ہے یا بعد میں نکلا ہے،تواس صورت میں  وضو کا کیا حکم ہے ؟کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

رحم سے نکلنے والی ہر رطوبت ناپاک ہے، اور اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،اگرچہ وہ  رنگ و بو میں بالکل پانی کی طرح ہو،اور کپڑوں کو لگ جانے کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں،رطوبت کا خروج اگرچہ قلیل مقدار میں ہو وہ بھی ناقض ِ وضو ہے،وضو ء يا غسل كرنے بعد شرمگاه پر اگر تری دیکھی  اور معلوم نہیں کہ یہ پانی ہےیا پیشاب وغیرہ ہے تو دوبارہ وضو کرنا چاہیے،اور اگر نماز کے دوران شک ہوجائے تو شک کی طرف دھیان  نہ دے بلکہ نماز پڑھتی رہے،جب تک شرمگاہ سے رطوبت کے نکلنے کا یقین یا ظن غالب  نہ  ہوجائے۔

اور اگر رطوبت نکلنے کا یقین ہو لیکن    استنجاء کے پانی اور ناپاک پانی میں فرق نہ  ہو تو جس جگہ نجا ست  لگنے کا ظن غالب ہو اسے دھو  ڈالے تو کپڑا پاک ہوجائے گا۔

مر قاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا، فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا. فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا ) . رواه مسلم.

 (وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا ) : أي كالقرقرة بأن تردد في بطنه ريح (فأشكل) : أي التبس (عليه أخرج) : بهمزة استفهام (منه شيء أم لا، فلا يخرجن من المسجد) : أي للتوضؤ لأن المتيقن لا يبطله الشك. قيل: يوهم أن حكم غير المسجد بخلاف المسجد، لكن أشير به إلى أن الأصل أن يصلي في المسجد لأنه مكانها، فعلى المؤمن ملازمة الجماعات للمسجد (حتى يسمع صوتا) : أي: صوت ريح يخرج منه ( أو يجد ريحا ) : أي: يجد رائحة ريح خرجت منه، وهذا مجاز عن تيقن الحدث لأنهما سبب العلم بذلك."

(كتاب الطهارة، باب ما يوجب الوضوء،الفصل الأول، ج:1، ص:306 ، رقم:310،  ط:دار الفكر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ومن أيقن بالطهارة وشك في الحدث فهو على الطهارة، ومن أيقن بالحدث وشك في الطهارة فهو على الحدث، لأن ‌اليقين ‌لا يبطل بالشك."

(كتاب الطهارة، فصل بيان ما ينقض الوضوء، ج:1، ص:33، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو خرج البول من الفرج الداخل من المرأة دون الخارج ينقض الوضوء."

(كتاب الطهارة، فصل في نواقض الوضوء، ج:1،ص:10،ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإن الشك والإحتمال لايوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لايزول بالشك."

(كتاب الطهارة،باب سنن الوضوء، ج:1، ص:148، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"لو شك في السائل من ذكره أماء هو أم بول. إن قرب عهده بالماء أو تكرر مضى وإلا أعاده، بخلاف ما لو غلب على ظنه أنه أحدهما فتح"

(كتاب الطهارة،باب سنن الوضوء، ج:1، ص:151، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى".

(کتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص: 331، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144505101610

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں