بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ریشم کے دھاگے سے مرد کے کپڑوں کی سلائی کرنا


سوال

ریشم کے دھاگے سے مرد کے کپڑوں کی سلائی کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر کپڑا  ریشم کے علاوہ  کا ہو اور اس  کی سلائی میں ریشم کا دھاگا استعمال کیا جائے تو ریشم کی اتنی مقدار جائز ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی ایک ہی جگہ میں چار انگل کے برابر یا اس سے کم ہو، لیکن  اگر ایک ہی جگہ میں ریشم سے اتنی  سلائی یا کڑھائی کی جائے جس کی مقدار لمبائی اور چوڑائی میں چار انگل سے زیادہ ہو تو مرد کے لیے اس کپڑے کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

"الدر المختار مع رد المحتار " میں ہے:

"(يحرم لبس الحرير.... (على الرجل لا المرأة إلا قدر أربع أصابع) كأعلام الثوب (مضمومة) وقيل منشورة وقيل بين بين وظاهر المذهب عدم جمع المتفرق.

(قوله إلا قدر أربع أصابع إلخ) لما صح عن ابن عباس - رضي الله عنهما - إنما «نهى النبي - صلى الله عليه وسلم - عن الثوب المصمت من الحرير» فأما العلم وسدى الثوب فلا بأس به والمصمت الخالص...

وعلم الثوب رقمه وهو الطراز كما في القاموس والمراد به ما كان من خالص الحرير نسجا أو خياطة، وظاهر كلامهم أنه لا فرق بينه وبين المطرف، وهو ما جعل طرفه مسجفا بالحرير في أنه يتقيد بأربع أصابع...

قوله وظاهر المذهب عدم جمع المتفرق) أي إلا إذا كان خط منه قزا وخط منه غيره بحيث يرى كله قزا فلا يجوز كما سيذكره عن الحاوي، ومقتضاه حل الثوب المنقوش بالحرير تطريزا ونسجا إذا لم تبلغ كل واحدة من نقوشه أربع أصابع، وإن زادت بالجمع ما لم ير كله حريرا تأمل."

(كتاب الحظر و الإباحة، فصل في اللبس، ج:6، ص:351-352، ط:سعید) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں