بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

رینٹ اے کار کا حکم


سوال

 رینٹ اے کار کے کام کا کیا حکم ہے؟ابھی کچھ عرصہ سے میں نے اپنے گھر سے آن لائن رینٹ اے کار کا کام شروع کیا ہے جس کی ترتیب یہ ہے کہ ایک شوروم یا کسی دوست سے رینٹ طے کرکے مالک یا شوروم کی اجازت سے اپنے نفع کےساتھ آگے رینٹ پر دیتا ہوں جس کی مکمل صورت ان کے سامنے رکھی جاتی ہے اور اس نفع سے شوروم اور مالک کو کوئی اعتراض بھی نہیں تو آگے رینٹ پر دینے سے پہلے اپنی جانب سے کچھ اضافی کام کرنا ضروری ہے یا ایسے ہی آگے دی جاسکتی ہے؟کیا گاڑی کی سروس یا سجائی کروانا یا پیٹرول ڈلوانا ویلیو ایڈیشن میں شامل ہوگا؟ سجائی اکثر لوگ خود اپنی مرضی سے کروانا چاہتے ہیں،وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ گاڑی بھیج دیں سجائی ہم خود کروائیں گے، اب سروس کروائی جاسکتی ہے یا پھر ایک صورت یہ ہے کہ ہم شوروم یا مالک سے بغیر پیٹرول کے گاڑی لیں پھر اپنے پاس سے پیٹرول ڈلواکر آگے بھیجیں۔ اس کے علاوہ گاڑیوں میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے.

بعض اوقات یہ کام بھی شوروم یا مالک کی طرف سے کردیئے جاتے ہیں اور یہ  صورتیں بھی صرف شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں پیش آتی ہیں اس کے علاوہ جو ڈیوٹی بکنگ ہوتی ہے اس میں یہ کام کروانے کی بھی حاجت نہیں ہوتی اور پیٹرول بھی رینٹ پر لینے والے کے ذمہ ہوتا ہے. عموماً یہی صورت اس کام میں رائج ہے تو اس طرح حاصل ہونے والے نفع کا کیا حکم ہوگا اور شرعا اس کی صحیح صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی چیز کرایہ پرلے کر پھر کرایہ دار کے لیے وہ چیز کسی تیسرے شخص کو کرایہ پر دینا جائز ہے، جب کہ مالک کی جانب سے کرایہ دار کو اس کی اجازت ہو۔نیز کرایہ دار کسی تیسرے شخص کو وہ چیز کرایہ پر دے کر صرف اتنی رقم کرایہ کی مد میں لے سکتا ہے جتنی رقم کرایہ دار نے مالک کوادا کی ہے،اس سے زائد رقم وصول کرنا درست نہیں ہے۔البتہ کرایہ دار کے لیے اداکردہ رقم سے زائد رقم پر وہ چیز کرایہ پر دینا اس صورت میں جائز ہوگا جب کرایہ دار اپنی جانب سے اس چیز میں کوئی محنت،کام وغیرہ کروائے۔

لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے لیے آن لائن رینٹ اے کار کا کام کرنا اس صورت میں جائز ہوگا جب کہ شوروم کے مالک کی جانب سے آپ کو کرایہ پرحاصل کردہ گاڑی آگے کسی کو کرایہ پردینے کی اجازت حاصل ہو۔نیز آپ کے لیے گاڑی کرایہ پر لے کرآگے زائد کرائے پر دینا زائد رقم وصول کرنااس وقت جائز ہوگاجب کہ آپ اپنی جانب سے کوئی کام سرانجام دیں۔چاہے گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کی صورت میں ہو، یا گاڑی کی سروس یا سجائی کروانے کی صورت میں۔ان صورتوں میں شوروم والے کو اداکردہ رقم سے زائد کرایہ پر دینا جائز ہوگا۔اور اگر اپنی جانب سے گاڑی میں کسی قسم کا کوئی عمل نہیں کیا بلکہ محض شوروم والے سے گاڑی لے کر آگے کسی کو کرایہ پر دے دی تو زائد رقم کا لینا درست نہ ہوگا اور اگرزائد رقم  وصول کرلی تو اسے صدقہ کرنا ہوگا۔

الدر المختار  میں ہے:

’’(وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد لانه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجئ، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا.‘‘

(ج نمبر۶، ص نمبر ۳۱۰)

البحر الرائق میں ہے:

’’ وفي الجوهرة المستأجر إذا أجر بأكثر مما استأجر تصدق بالفضل إلا إذا أصلح فيها شيئا أو أجرها بخلاف جنس ما استأجر.‘‘

(ج نمبر ۷، ص نمبر ۳۰۴)

المبسوط للسرخسي ـ میں ہے:

’’فإن أجرها بأكثر مما استأجرها به تصدق بالفضل إلا أن يكون أصلح منها بناء أو زاد فيها شيئا فحينئذ يطيب له الفضل.‘‘

(ج نمبر ۱۵، ص نمبر ۲۳۶)

المحيط البرهاني میں ہے:

’’وأما (إذا) زاد في الدار شيئاً بأن جصّصها أو طينها أو ما أشبه ذلك أو أجر مع ما استأجر شيئاً من ماله يجوز أن يعقد عليه عقد الإجارة وتطيب له الزيادة، لأن زيادة الأجر تجعل بإزاء منفعة الزيادة وإذا ما أجر من ماله احتيالاً للطيبة، وإن كان لا يقتضيه ذلك بمطلق الانقسام.

كما لو باع درهماً وديناراً بدرهمين ودينارين نصرف الجنس إلى خلاف الجنس احتيالاً للصحة، وإن كان مطلق الانقسام لا يقتضي ذلك فكذلك هاهنا، وإذا صرفنا إلى ذلك لا تبقى زيادة الأجر ربحاً حتى يكون ربح ما لم يضمن من وجه، وكذا إذا أجره بجنس آخر تطيب له الزيادة؛ لأن الربح لا يظهر عند اختلاف الجنس.‘‘

(ج نمبر ۷، ص نمبر ۷۶۳)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144104200500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں