بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

آڑهتی کا ڈیلر سے رعایتی قیمت میں اشیاء لے کر زمیندار کو دینا اور رعایتی قیمت خود استعمال کرنے کا حکم


سوال

ایک آڑھتی اپنے تعلق کے واسطے سے کھاد و بیج وغیرہ کے ڈیلر سے کسی زمیندار کو مال لے کر دیتا ہے اور وہ ڈیلر آڑھتی کو مارکیٹ سے کچھ رعایت کر دیتا ہے تو کیا وہ رعایتی رقم آڑھتی کے لیے جائز ہے ؟ یا زمیندار کو اس کا بتا دے تو پھر جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں آڑھتی اگر زمیندار کے کہنے پر تعلق والے ڈیلر سے اشیاء لے کر دیتا ہے  اور اس تعلق کی وجہ سے ڈیلر آرھتی کو رعایت کرتا ہے، تو شرعًا آڑھتی کے  لیے اس رعایتی قیمت کا استعمال جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ  اس صورت میں آڑھتی زمیندار کا وکیل ہے،   اور وکیل کا خریدنا موکل کا خریدنا ہے؛  لہذا جو رعایت ملے گی وہ موکل کو ملے گی،البتہ اگر آڑھتی اور زمیندار کے درمیان خرید کر دینے کی کوئی اجرت متعین ہوئی ہے تو خریدکر دینے کے بعد آڑھتی صرف اسی اجرت کا حق دار ہو گا، رعایتی قیمت کا حق دار نہیں،  البتہ اگر آڑھتی وکیل نہیں بنتا،  بلکہ مطلوبہ کھاد اور بیج وغیرہ قیمت مقرر کر کے بیچنے کا وعدہ کرتا ہے پھر آڑھتی ڈیلر سے زمیندار کی مطلوبہ اشیاء خود خرید لیتا ہے اور  قبضہ کرنے کے بعد وعدہ کے مطابق مقرر شدہ قیمت پر زمیندار کو فروخت کردیتا ہے تو اس صورت میں آڑھتی کے  لیے اس رعایتی قیمت کو استعمال کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"وأما الدلال فإن ‌باع ‌العين ‌بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع. قال ابن عابدین: (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له."

(كتاب البيوع، ‌‌[فرع] ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف: 4/ 560، ط: سعید)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:

"(سئل) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع المالك المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع فهل تكون على البائع؟

(الجواب) : نعم وفي فوائد صاحب المحيط الدلال إذا ‌باع ‌العين ‌بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع هكذا أجاب ثم قال ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما عمادية من أحكام الدلال وما يتعلق به ومثله في الفصولين وشرح التنوير للعلائي من البيع."

(كتاب البيوع: 1/ 247، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101676

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں