بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ریکارڈنگ پر طلاق دینا


سوال

میں  نے ایک مطلقہ عورت سے اس کی کفالت  کی نیت سے شادی کی تھی ،  جس کا ایک بیٹا بھی ہے، میری پہلی بیوی کی اجازت سے، مگر میری پہلی بیوی کی عدمِ برداشت کی وجہ سے میرے گھر میں اکثر نا چا قی  رہنے لگی  جس کی وجہ سے میری دوسری بیوی نے اکثر مجھ سے مطالبہ کیا کہ آپ مجھے چھوڑ دیں اور اپنا گھر دیکھیں، مگر میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا اور میں نے اسے نہیں چھوڑا، پھر ایک دن میری دوسری بیوی نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسے ریکارڈنگ میں طلاق دے دوں اور میں اس بات کو قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اس کی ضد  کے آگے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیے کہ تین طلاقیں دراصل ایک طلاق ہی ہوتی ہے، اس لیے میں رجوع کر لوں گا، واضح کر دوں کہ میری یہ سوچ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اس لیکچر کی وجہ سے تھی جس میں انہوں نے تین طلاق کو ایک طلاق کا کہا ہے۔ بہرحال میں نے دس دن کے اندر رجوع کر لیا اور میری ایک بیٹی بھی پیدا ہوگئی  ہے، مگر  حالات وہی رہے جو تھے۔

 اب  مسئلہ  یہ  ہے کہ میری دوسری بیوی نے  پھر مجھ سے طلاق کا مطالبہ شروع کر دیا بقول اس کے میری پہلی بیوی نے پھر کچھ نیگیٹیو باتیں میرے متعلق اس کے ذہن میں ڈال دیں تھیں،  جس سے وہ کہتی ہے کہ میں الجھ گئی ہوں اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے  لکھ کر میرے گھر طلاق بھیجیں اور  مجھے ایک سائیڈ پر کر دیں اور  پھر  مجھ سے یہ بھی کہا کہ ریکارڈنگ میں ایک بار پھر مجھے طلاق دیں، اب وہ قسم کھاتی ہے کہ نہ تو میں نے جو طلاق آپ نے بھیجی تھی وصول کی رہے اور نہ ریکارڈنگ  سنی تھی؛ کیوں کہ میں نے بغیر سنے ڈیلیٹ کر دی تھی اور میں حیض سے بھی ہوں، مجھے آپ سے یہ پوچھنا  ہے کہ کیا طلاق واقع ہوچکی  ہے کہ نہیں؟

جواب

طلاق  واقع  ہونے  کے  لیے بیوی کو علم ہونا ضروری نہیں ہے؛  لہذا شوہر کی طرف سے واٹس ایپ پر بیوی کو طلاق واقع کرنے کا میسج ریکارڈ کرکے بھیجنے سے اس پر طلاقِ واقع ہوگئی،  چاہے اس نے نہ وصول کی ہو، یا نہ سنی ہو۔

نیز اگر آپ نے طلاق کا میسج ریکارڈ کراتے وقت تین مرتبہ طلاق کا کہا تھا ،اگرچہ آپ کو یہ غلط فہمی کسی کے بتانے کی وجہ سے ہوئی ہو،  تب بھی آپ کی دوسری بیوی پر تین طلاق واقع ہو چکی  ہیں؛  لہذا اس کے بعد آپ کا ان کے ساتھ رہنا اور حقوقِ  زوجیت ادا کرنا جائز نہیں ہے۔اور  اب دوبارہ ان کو مزید طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہے،  بلکہ اب وہ آپ کی بیوی نہیں رہی ۔ فی الفور علیحدگی اور سابقہ تعلق پر توبہ و استغفار لازم ہے۔  

الفتاوى الهندية (1 / 378):

"الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لايكون مصدرًا ومعنونًا وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته، وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لايمكن فهمه وقراءته، ففي غير المستبينة لايقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينةً لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع، وإلا فلا، وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لاتخلو إما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد! فأنت طالق، فكلّما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة".

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206201502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں