بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ربیع الاول کا چاند دیکھ کر مبارک باد دینے کا حکم


سوال

 کیا ربیع الاول کے چاند کی مبارک باد دینا جائز ہے؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں،آپ کی ویب سائٹ پر اس کے جواز کا فتوی ہے جب کہ دارالعلوم دیوبند نے اس کے عدم جواز کا فتوی دیاہے، کیاچاند دیکھ کر مبارک باد دینا صحابہ سے بھی ثابت ہے؟

جواب

ربیع الاول کے چاند کی مبارک باد دینا اب  اہل بدعت کا شعار بن چکا ہے اور وہ اس کو لازم اور ضروری سمجھتے ہیں،اس لیے ربیع الاول کے چاند کی مبارک دینا بدعت ہے،بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر جاری شدہ فتوٰی میں مبارک باد کے اہتمام کو نادرست کہاگیا تھا،اب جب کہ  لوگوں میں اس کا اہتمام اور التزام شروع ہوگیا ہےاورخاص لوگوں نے اسے اپنی پہچان بنا لیا ہے تو اسے بدعت کہا جائے گا۔

نیز چاند دیکھ کر مبارک باد دینا سلفِ صالحین حضراتِ صحابہ ،تابعین،تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سےثابت نہیں ہے،  البتہ ہر مہینہ کا چاند دیکھ کر  اپنے لیے خیر و برکت کی مسنون دعا کرنا  ثابت ہے، اس کا اہتمام  کرناچاہیے،اور وہ دعا یہ ہے۔

" اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ."

الدعوات الكبير میں ہے:

"عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: كان رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إذا رأى الهلال قال: الله أكبر ‌اللهم ‌أهله ‌علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والتوفيق لما تحب وترضى ، ربنا وربك الله."

( با ب مايقول إذا رأى الهلال،124/2،ط:غراس للنشر والتوزيع)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں