بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بیٹی کی میراث کا حکم


سوال

ایک شخص فوت ہوچکا ہے، اس نے چار بیٹے، ایک سگی بیٹی اور ایک رضاعی بیٹی چھوڑ ی ہے، اب پو چھنا یہ ہے کہ رضاعی بیٹی کا میراث میں حصہ ہے یا نہیں؟

جواب

میراث کا حق نسبی رشتہ میں ہوتاہے، رضاعی بیٹی شرعاً وارث نہیں بنتی، اس کا مرحوم کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہو ں اور باہمی رضامندی سے اسے ترکہ میں سے کچھ دے دیں تو یہ ان کی طرف سے احسان ہوگا، جس پر وہ اجر وثواب کے مستحق ہوں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے :

﴿وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ [النساء:8]
ترجمہ: اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھلا دو اس میں سے اور کہہ دو ان کو بات معقول . ( تفسیر عثمانی) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200802

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں